BR100 Increased By (0.9%)
BR30 Increased By (1.19%)
KSE100 Increased By (1.05%)
KSE30 Increased By (0.92%)
BAFL 58.30 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 23.28 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
BOP 28.47 Increased By ▲ 0.37 (1.32%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.12 (0.98%)
DFML 15.25 Increased By ▲ 0.18 (1.19%)
DGKC 185.25 Increased By ▲ 2.89 (1.58%)
FABL 93.30 Increased By ▲ 0.80 (0.86%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 0.94 (1.75%)
FFL 12.89 Increased By ▲ 0.09 (0.7%)
GGL 18.22 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
HBL 287.21 Increased By ▲ 2.04 (0.72%)
HUBC 196.70 Increased By ▲ 1.42 (0.73%)
HUMNL 8.52 Increased By ▲ 0.04 (0.47%)
KEL 5.74 Increased By ▲ 0.10 (1.77%)
LOTCHEM 23.76 Increased By ▲ 0.21 (0.89%)
MLCF 93.60 Increased By ▲ 1.64 (1.78%)
OGDC 303.99 Increased By ▲ 2.31 (0.77%)
PAEL 32.40 Increased By ▲ 0.59 (1.85%)
PIBTL 12.88 Increased By ▲ 0.10 (0.78%)
PIOC 240.05 Increased By ▲ 4.42 (1.88%)
PPL 213.75 Increased By ▲ 1.69 (0.8%)
PRL 86.80 Decreased By ▼ -0.46 (-0.53%)
SNGP 91.05 Increased By ▲ 1.04 (1.16%)
SSGC 22.86 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 6.59 Increased By ▲ 0.15 (2.33%)
TPLP 12.31 Increased By ▲ 0.15 (1.23%)
TRG 52.65 Increased By ▲ 0.78 (1.5%)
UNITY 7.70 Increased By ▲ 0.09 (1.18%)
WTL 0.96 Increased By ▲ 0.02 (2.13%)
بی آر ریسرچ

مہنگائی کا دباؤ، گھریلو صارفین کی مشکلات برقرار

  • پاکستان میں مجموعی مہنگائی کی سالانہ شرح اکتوبر میں کم ہو کر 9.6 فیصد رہی، جو ستمبر میں 10.3 فیصد تھی
شائع اپ ڈیٹ

خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ماہانہ مہنگائی کی شرح بدستور بلند ہے۔ بنیادی مہنگائی میں کمی سے کچھ اطمینان ضرور ملتا ہے، تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گھریلو صارفین قوتِ خرید میں کمی کی صورت میں اس دھچکے کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔

پاکستان میں مجموعی مہنگائی کی سالانہ شرح اکتوبر میں کم ہو کر 9.6 فیصد رہی، جو ستمبر میں 10.3 فیصد تھی۔ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے، لیکن ماہانہ اعدادوشمار سے زیادہ اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ صارفین کی قیمتوں میں مزید 1.1 فیصد اضافہ ہوا، جو مسلسل چوتھا مہینہ ہے کہ ماہانہ بنیاد پر مہنگائی ایک فیصد سے زیادہ رہی۔ گزشتہ آٹھ ماہ میں سے چھ ماہ کے دوران بھی یہ شرح اس حد سے تجاوز کر چکی ہے۔

سالانہ مہنگائی کی شرح میں کمی آ رہی ہے، لیکن زندگی گزارنے کی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے دوسرے پہلو پر زیادہ توجہ دینے کی معقول وجہ موجود ہے۔

خوراک اور توانائی کی قیمتیں بدستور مہنگائی کے دباؤ کی بنیادی وجوہات ہیں۔ مالی سال 2027 کے پہلے چار ماہ کے دوران اوسط مہنگائی 10.1 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ شرح 4.8 فیصد تھی۔ جنگ کے باعث پیدا ہونے والا توانائی کا بحران قیمتوں کو بلند رکھے ہوئے ہے، جبکہ ملک میں خوراک کی رسد سے متعلق مسائل بھی اس بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں۔

تاہم بنیادی مہنگائی، جس میں خوراک اور توانائی کی قیمتیں شامل نہیں ہوتیں، میں کمی سے کچھ اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اکتوبر میں یہ شرح کم ہو کر تقریباً 7.6 فیصد رہ گئی، جو ستمبر میں 8.4 فیصد تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے اثرات ابھی تک معیشت کے دیگر شعبوں میں وسیع پیمانے پر منتقل نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود پہلے چار ماہ کے دوران بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح 8.3 فیصد رہی، جو ایک سال قبل ریکارڈ کی گئی 7.5 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔

اکتوبر میں مہنگائی کے فوری دباؤ کی بنیادی وجہ خوراک کی قیمتیں تھیں۔ ناقابلِ تلف خوراک کی قیمتوں میں ماہانہ بنیاد پر 2.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں یہ 9.6 فیصد زیادہ رہیں۔ ماہانہ اضافہ دیہی علاقوں میں زیادہ تیز تھا، جہاں قیمتیں 2.9 فیصد بڑھیں، جبکہ شہروں میں یہ اضافہ 2.3 فیصد رہا۔

گندم اور آٹا قیمتوں میں اضافے کے نمایاں اسباب میں شامل رہے۔ شہری اور دیہی دونوں منڈیوں میں گندم کی قیمتوں میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شہروں میں آٹا تقریباً 7.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں 9.4 فیصد مہنگا ہوا۔ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں تقریباً 17 سے 19 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کئی اقسام کی دالوں کی قیمتیں بھی بڑھیں۔

دیہی علاقوں پر مہنگائی کے زیادہ بوجھ کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جولائی سے اکتوبر کے دوران دیہی علاقوں میں اوسط مہنگائی 10.6 فیصد رہی، جبکہ شہروں میں یہ شرح 9.7 فیصد تھی۔ اکتوبر میں سالانہ بنیاد پر یہ شرحیں نسبتاً کم ہو کر بالترتیب 9.8 اور 9.5 فیصد رہیں۔ دیہی گھرانے مجموعی مہنگائی کی زیادہ شرح کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ دیہی علاقوں میں بنیادی مہنگائی 7.1 فیصد ہے، جو شہری علاقوں کی 7.8 فیصد شرح سے کم ہے۔

توانائی کی قیمتیں مستقبل میں مہنگائی کے لیے بدستور بڑا خطرہ ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات ایک سال پہلے کے مقابلے میں 28.6 فیصد زیادہ رہے، جبکہ رہائش اور بجلی، گیس سمیت دیگر یوٹیلٹی خدمات کی قیمتوں میں 11 فیصد اضافہ ہوا۔ شہری علاقوں میں موٹر ایندھن کی قیمتیں 41.3 فیصد اور بجلی کے نرخ 22.9 فیصد بڑھ گئے۔

ایل پی جی موسمِ سرما میں مہنگائی کے حوالے سے ایک خاص خطرہ بن سکتی ہے۔ اکتوبر میں شہری علاقوں میں اس کی قیمتیں پہلے ہی ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 69 فیصد زیادہ تھیں۔ رسد میں مزید تعطل سے گھریلو صارفین اور کھانے پینے کے کاروباروں کے لیے کھانا پکانے کے اخراجات بڑھ جائیں گے، عین اس وقت جب موسمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہوگا۔

صارفین کے قیمتوں کے اشاریے (سی پی آئی) میں ایل پی جی کا وزن کم ہونے کے باعث مجموعی مہنگائی میں اس کا براہِ راست حصہ محدود رہتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھریلو صارفین پر اس کے بوجھ کی اہمیت بھی کم ہے۔ کھانا پکانے کے اخراجات بڑھنے سے تیار کھانوں کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں، اگرچہ اس کے اثرات کب اور کس حد تک سامنے آئیں گے، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کاروباری ادارے بڑھتی ہوئی لاگت کا کتنا بوجھ صارفین کو منتقل کر سکتے ہیں۔

بنیادی مہنگائی کے حوالے سے بھی اس فرق کو سمجھنا اہم ہے۔ اس شرح میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا وسیع تر اور دوسرے مرحلے کا دباؤ ابھی شروع نہیں ہوا۔ تاہم صرف اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اجرتوں میں اضافے کا دباؤ موجود نہیں۔ اسی طرح قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا محدود رہنا بھی اس بات کی ضمانت نہیں کہ گھریلو صارفین حالات کا بہتر طور پر مقابلہ کر رہے ہیں۔ کاروباری ادارے اپنے منافع کی شرح کم کرکے اضافی لاگت خود برداشت کر رہے ہوں گے، جبکہ گھرانے بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر اخراجات میں کمی کر رہے ہوں گے۔

لہٰذا مہنگائی کا منظرنامہ بدستور تشویش ناک ہے۔ اگر خوراک اور توانائی کی قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو نومبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح دوبارہ تقریباً 10 فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور موسمِ سرما کے دوران دوہرے ہندسے کے قریب رہ سکتی ہے۔ بعد ازاں گزشتہ سال کی بلند قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والے موافق بنیادی اثرات (بیس ایفیکٹس) رپورٹ ہونے والی مہنگائی کی شرح میں کمی لا سکتے ہیں۔ تاہم اس سے قیمتوں میں وہ اضافہ واپس نہیں ہوگا جس کا گھریلو صارفین پہلے ہی سامنا کر چکے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے اپنی شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 12 فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کی ذمہ داری ہے کہ رسد کے مسلسل بحران کو مہنگائی کی توقعات اور قیمتیں مقرر کرنے کے وسیع تر عمل تک پھیلنے سے روکے۔ شرحِ سود سے متعلق آئندہ فیصلوں کا انحصار توانائی کی قیمتوں، خوراک کی رسد اور اس بات کے شواہد پر ہوگا کہ مہنگائی کا دباؤ معیشت کے دیگر شعبوں تک کس حد تک منتقل ہو رہا ہے۔

تاہم شرحِ سود میں اضافہ گندم کی رسد کے انتظامات بہتر نہیں بنا سکتا، ایل پی جی کی فراہمی یقینی نہیں بنا سکتا اور نہ ہی بجلی کے شعبے کی نااہلیوں کو ختم کر سکتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں حکومت کی ہیں۔

مالیاتی پابندیاں پیٹرولیم لیوی میں ریلیف دینے کی گنجائش محدود کرتی ہیں۔ لیکن یہ رسد میں ایسے تعطل کا جواز نہیں بن سکتیں جس سے بچا جا سکتا ہو، اور نہ ہی توانائی کے شعبے کی لاگت مسلسل صارفین پر منتقل کرنے کا جواز بنتا ہے۔ مانیٹری پالیسی مہنگائی کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن حکومت کو ان اخراجات سے نمٹنا ہوگا جن پر اس کا اختیار ہے۔

گھریلو صارفین کے لیے مہنگائی کی سالانہ شرح میں کمی خوش آئند ہے، لیکن حقیقی ریلیف اسی وقت ملے گا جب ماہانہ بلوں میں اتنی تیزی سے اضافہ ہونا بند ہوگا۔

Comments

200 حروف