BR100 Increased By (0.84%)
BR30 Increased By (0.39%)
KSE100 Increased By (0.76%)
KSE30 Increased By (0.9%)
BAFL 57.83 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 23.40 Decreased By ▼ -0.04 (-0.17%)
BOP 29.00 Increased By ▲ 0.35 (1.22%)
CNERGY 12.81 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 15.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.31%)
DGKC 184.00 Decreased By ▼ -0.63 (-0.34%)
FABL 91.86 Increased By ▲ 0.67 (0.73%)
FCCL 52.55 Decreased By ▼ -0.28 (-0.53%)
FFL 12.97 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
GGL 19.70 Decreased By ▼ -0.38 (-1.89%)
HBL 288.00 Increased By ▲ 0.34 (0.12%)
HUBC 194.10 Increased By ▲ 0.92 (0.48%)
HUMNL 8.08 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 5.86 Increased By ▲ 0.03 (0.51%)
LOTCHEM 24.01 Decreased By ▼ -0.12 (-0.5%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -0.38 (-0.42%)
OGDC 303.49 Decreased By ▼ -0.19 (-0.06%)
PAEL 32.84 Increased By ▲ 0.02 (0.06%)
PIBTL 12.95 Decreased By ▼ -0.08 (-0.61%)
PIOC 235.89 Increased By ▲ 0.40 (0.17%)
PPL 215.20 Increased By ▲ 0.12 (0.06%)
PRL 93.45 Decreased By ▼ -0.71 (-0.75%)
SNGP 90.00 Increased By ▲ 0.34 (0.38%)
SSGC 22.89 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
TELE 6.80 Decreased By ▼ -0.01 (-0.15%)
TPLP 12.45 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
TRG 53.51 Decreased By ▼ -0.11 (-0.21%)
UNITY 7.72 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پاما کا گفٹ اسکیم کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے نظرثانی کا مطالبہ

  • درآمدات سے متعلق تمام اقدامات پاکستان کی صنعتی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں، ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے وزارتِ تجارت سے گفٹ اسکیم کا فوری جائزہ لینے اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے مؤثر حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو خط میں کہا ہے کہ حکومت استعمال شدہ گاڑیوں کی ضرورت سے زیادہ درآمدات کی حوصلہ افزائی کرنے والی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرے کیونکہ اس سے مقامی مینوفیکچرنگ متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ درآمدات سے متعلق تمام اقدامات پاکستان کی صنعتی ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔

خط کے مطابق گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2026 میں اس اسکیم کے تحت صرف 7 گاڑیاں درآمد کی گئی تھیں جو جون میں بڑھ کر 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 گاڑیاں ہوگئیں۔ اس کے برعکس اسی عرصے میں ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ ستمبر 2026 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا۔

رضی الرحمٰن نے کہا کہ پاما بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حقیقی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تاہم درآمدات میں غیر معمولی اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گفٹ اسکیم کو اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں قائم کرنے اور پرزہ جات کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت ملک میں 13 مینوفیکچرنگ پلانٹس کے ذریعے 31 سے زائد برانڈز اور 100 سے زیادہ ماڈلز کام کر رہے ہیں جبکہ گاڑیوں کے متعدد شعبوں میں مقامی پرزہ جات کی تیاری کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا کہ ذاتی استعمال کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی درآمدات مقامی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور صنعتی ترقی و درآمدات کے متبادل کے طور پر مقامی پیداوار بڑھانے کے حکومتی اہداف کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

پاما کے ڈی جی نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت حالیہ ٹیرف اصلاحات پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی ڈیوٹیز میں نمایاں کمی، مکمل تیار شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد تک فرسودگی کی رعایت اور درآمدات مزید آزاد کرنے کی تجاویز مقامی صنعت کے لیے مسابقتی گنجائش محدود کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق ایسے اقدامات مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار کی فراہمی اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔رضی الرحمٰن نے کہا کہ چند ماہ کے اندر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کا بیگیج اسکیم سے تقریباً مکمل طور پر گفٹ اسکیم کی جانب منتقل ہونا بیرونِ ملک ان گاڑیوں کی سرٹیفکیشن اور منظوری کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرٹیفکیشن، تصدیق اور نگرانی کے موجودہ نظام کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گفٹ اسکیم کو اس کے طے شدہ مقاصد کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے اور اسے تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

Comments

200 حروف