BR100 Increased By (0.73%)
BR30 Increased By (0.83%)
KSE100 Increased By (0.77%)
KSE30 Increased By (0.82%)
BAFL 56.38 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 23.50 Increased By ▲ 0.19 (0.82%)
BOP 27.62 Increased By ▲ 0.11 (0.4%)
CNERGY 12.82 Increased By ▲ 0.10 (0.79%)
DFML 15.85 Decreased By ▼ -0.03 (-0.19%)
DGKC 182.95 Decreased By ▼ -0.35 (-0.19%)
FABL 91.06 Increased By ▲ 0.36 (0.4%)
FCCL 52.70 Increased By ▲ 0.08 (0.15%)
FFL 12.95 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
GGL 19.57 Decreased By ▼ -0.09 (-0.46%)
HBL 284.51 Decreased By ▼ -0.11 (-0.04%)
HUBC 191.50 Increased By ▲ 2.88 (1.53%)
HUMNL 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
KEL 5.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.52%)
LOTCHEM 22.96 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
MLCF 90.44 Increased By ▲ 0.03 (0.03%)
OGDC 302.60 Increased By ▲ 0.14 (0.05%)
PAEL 32.84 Increased By ▲ 0.09 (0.27%)
PIBTL 13.03 Decreased By ▼ -0.18 (-1.36%)
PIOC 233.09 Decreased By ▼ -0.41 (-0.18%)
PPL 214.20 Decreased By ▼ -1.07 (-0.5%)
PRL 95.40 Decreased By ▼ -0.69 (-0.72%)
SNGP 89.86 Decreased By ▼ -0.34 (-0.38%)
SSGC 22.61 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
TELE 6.71 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 11.98 Increased By ▲ 0.46 (3.99%)
TRG 53.50 Decreased By ▼ -1.21 (-2.21%)
UNITY 7.66 Decreased By ▼ -0.06 (-0.78%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.02 (-2.08%)
رائے

زرعی ڈرونز کے استعمال پر ازسرِنو غور

  • چین میں 11 صوبوں کے 2 ہزار کسانوں پر تحقیق کے مطابق زرعی ڈرونز سے فی ہیکٹر 488 ڈالر تک اضافی آمدن اور 15.8 گھنٹے کی بچت ہوئی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے زرعی ڈرونز پر بتدریج گفتگو بڑھ رہی ہے۔ یہ ڈرونز فصلوں کی نگرانی، کھیتوں کی نقشہ سازی، ضرورت کے مطابق زرعی ادویات کے چھڑکاؤ اور بعض حالات میں بیج بونے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم ان کی اصل افادیت زراعت کی پیداوار میں اضافے کی راہ میں حائل بنیادی رکاوٹوں کا مکمل حل پیش کرنے کے بجائے کھیتی باڑی کے مخصوص امور کو بہتر بنانے میں ہے۔

زراعت کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں حصہ 23.4 فیصد ہے اور یہ افرادی قوت کے ایک بڑے حصے کا ذریعہ معاش بھی ہے، اس لیے زرعی خدمات کی بروقت فراہمی، درستگی اور کارکردگی بہتر بنانے والی ٹیکنالوجیز سنجیدہ توجہ کی مستحق ہیں۔

زرعی ڈرونز پاکستان میں جدید اور درست پیمائش پر مبنی زراعت کے فروغ میں عملی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کے ذریعے بعض زرعی کاموں میں لگنے والا وقت کم کیا جاسکتا ہے، کسانوں کو زرعی کیمیکلز کے براہِ راست استعمال سے لاحق خطرات گھٹائے جاسکتے ہیں اور ایسا ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے جو کھیتی باڑی سے متعلق بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے۔ اس حوالے سے چین کا تجربہ قابلِ غور ہے۔

چین کے 11 صوبوں میں 2 ہزار سے زائد اناج پیدا کرنے والے کسانوں پر کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق ڈرونز کی مدد سے زرعی سرگرمیاں انجام دینے کے نتیجے میں فی ہیکٹر تقریباً 434 سے 488 ڈالر اضافی آمدن حاصل ہوئی، جبکہ فی ہیکٹر 14.4 سے 15.8 گھنٹے کی محنت بھی بچائی جاسکی۔ دیگر مطالعات میں بھی زرعی ادویات کے علاوہ دیگر اخراجات میں کمی، ادویات کے استعمال میں صرف ہونے والے وقت کی بچت اور فصلوں کے بہتر نتائج کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن ان مطالعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مختلف کھیتوں میں زرعی ادویات کے استعمال اور چھڑکاؤ کی تعداد میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں زرعی ڈرونز کے استعمال کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے انہیں مقامی فصلوں، زرعی ڈھانچے اور عملی حالات کے تناظر میں آزمانا ضروری ہے۔

اس مقصد کے لیے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی کا آغاز واضح ضابطہ کار اور عملی طریقہ کار کی تشکیل سے ہونا چاہیے۔ زرعی ڈرونز کا استعمال ہوا بازی، زرعی سرگرمیوں، ماحولیاتی تحفظ اور ڈیٹا کے انتظام سے متعلق امور کا احاطہ کرتا ہے، اس لیے متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔

زرعی بغیر پائلٹ طیاروں کے نظام (یو اے ایس) کے لیے ون ونڈو طریقہ کار درخواست گزاروں کو ایک ہی مقام پر رابطے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے، جبکہ متعلقہ ادارے اپنے اپنے قانونی اختیارات برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اس نظام میں کم خطرے والی سرگرمیوں مثلاً تصاویر لینے اور نقشہ سازی کو زرعی ادویات کے چھڑکاؤ جیسی سرگرمیوں سے الگ رکھنا ہوگا، کیونکہ چھڑکاؤ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات درکار ہیں۔

ٹیکنالوجی کی کم لاگت اور آسان دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ بیشتر چھوٹے کسانوں کے لیے ڈرون خریدنا، اس کی دیکھ بھال کرنا اور اسے جدید بنانا معاشی طور پر قابلِ عمل نہیں۔ ڈرون بطور سروس (ڈی اے اے ایس) کا مسابقتی نظام کسانوں کو ضرورت کے مطابق یہ سہولتیں حاصل کرنے کا موقع دے سکتا ہے، جبکہ آلات، دیکھ بھال اور تکنیکی ذمہ داریاں مخصوص خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے پاس رہیں گی۔

ابتدائی آزمائشی مرحلے میں جہاں اخراجات رسائی میں رکاوٹ بنیں وہاں مخصوص سروس واؤچرز یا مشترکہ مالی معاونت کے طریقوں پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سرکاری معاونت کو آلات کی خریداری پر سبسڈی دینے کے بجائے تجربات، تربیت، آزادانہ جائزے اور خدمات تک رسائی بہتر بنانے پر مرکوز کیا جاسکے گا۔

تربیت، آگاہی اور ڈیٹا کے انتظام کے اصول بھی اس نظام کی بنیاد کا حصہ ہونے چاہییں۔ کسانوں کو واضح اور حقیقت پسندانہ معلومات فراہم کرنا ضروری ہے کہ ڈرون سروسز کیا کرسکتی ہیں اور ان کی حدود کیا ہیں۔

اسی طرح ڈرون آپریٹرز، زرعی ادویات کا چھڑکاؤ کرنے والے عملے، تکنیکی ماہرین اور ڈیٹا تجزیہ کاروں کی ذمہ داریاں متعین کرنے کے ساتھ مناسب تربیت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ کسانوں کی رضامندی، ڈیٹا کی حفاظت، اس تک رسائی، اسے محفوظ رکھنے کی مدت اور دوسرے نظاموں میں منتقل کرنے سے متعلق معیارات ڈیجیٹل زرعی خدمات پر اعتماد بڑھانے میں مدد دیں گے۔

دوسری جانب متعلقہ سرکاری محکمے اور کوآپریٹو ادارے کسانوں کی ضروریات یکجا کرنے اور چھوٹے کاشت کاروں کو قابلِ اعتماد خدمات فراہم کرنے والے اداروں سے منسلک کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سی پیک 2.0 اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے، جس کے ذریعے پاکستان اور چین ٹیکنالوجی کی منتقلی، فنی تربیت، مشترکہ تحقیق، تجربات اور نجی شعبے کی شمولیت کے شعبوں میں تعاون کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل زرعی ڈرونز کے آزمائشی استعمال اور معیارات کا پروگرام تشکیل دیا جاسکتا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے ایک منظم طریقہ کار فراہم کرے گا۔

ابتدا ہی میں بڑے پیمانے پر ڈرونز کے استعمال کو فروغ دینے کے بجائے اس پروگرام کے تحت مختلف زرعی نظاموں میں مخصوص فصلوں اور زرعی کاموں کے لیے ڈرونز کی آزمائش کی جاسکتی ہے، تاکہ ان کی عملی کارکردگی، معاشی افادیت، حفاظت اور شمولیت کے حوالے سے مستند شواہد حاصل ہوں۔

اس آزمائشی پروگرام کو کم از کم دو زرعی موسموں تک جاری رکھا جاسکتا ہے۔ پنجاب میں چاول اور گندم کی فصلوں پر ضابطوں کے تحت ڈرونز کے ذریعے زرعی ادویات کے چھڑکاؤ کی آزمائش کی جاسکتی ہے۔

سندھ میں کپاس کی فصل کی نگرانی اور ضرورت کے مطابق ادویات کے استعمال پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں باغات کے لیے تصاویر لینے اور منتخب مقامات پر زرعی ادویات کے استعمال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، جبکہ بلوچستان میں کھجور کے باغات کی نقشہ سازی، فصلوں کی حالت کی نگرانی اور آب پاشی سے متعلق مسائل کی تشخیص سے آغاز کیا جاسکتا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے مختلف فصلوں، زمینی حالات اور زرعی ڈھانچوں میں ڈرون سروسز کی کارکردگی جانچنے کا موقع ملے گا۔

آگے بڑھنے کا طریقہ کار نسبتاً سادہ رکھا جاسکتا ہے: پہلے ضابطے وضع کیے جائیں اور تیاری کی جائے، پھر آزمائش اور جائزہ لیا جائے اور آخر میں صرف ان طریقوں کو وسعت دی جائے جن کی افادیت ثابت ہوچکی ہو۔ پہلے مرحلے میں عملی ضابطے تشکیل دینے، آزمائشی مقامات منتخب کرنے، خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے شرائط مقرر کرنے اور تربیت و نگرانی کے انتظامات کرنے کی ضرورت ہوگی۔

دوسرے مرحلے میں منتخب فصلوں اور زرعی سرگرمیوں کے حوالے سے آزادانہ جائزے کے ذریعے شواہد جمع کیے جائیں گے۔ اس کے بعد صرف ان طریقوں کو بڑے پیمانے پر متعارف کرایا جائے جن کے معاشی افادیت، عملی کارکردگی، حفاظت اور شمولیت کے حوالے سے مثبت نتائج سامنے آئیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ مستند ڈرون سروسز کو ایک وسیع ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، جس میں سیٹلائٹ تصاویر، موسمیاتی ڈیٹا، آب پاشی کے انتظام اور زرعی مشاورتی پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا جائے۔

بنیادی مقصد محض کھیتوں میں زیادہ سے زیادہ ڈرونز کا استعمال نہیں، بلکہ زرعی شعبے کے لیے حقیقی طور پر مفید اور قابلِ اعتماد خدمات کی مارکیٹ تشکیل دینا ہے۔ مناسب حفاظتی اقدامات، مقامی حالات میں حاصل کردہ شواہد اور خدمات پر مبنی نظام کے ذریعے زرعی ڈرونز پاکستان میں جدید اور درست پیمائش پر مبنی زراعت کے ابھرتے ہوئے نظام کا ایک حصہ بن سکتے ہیں،

مگر انہیں اس کا واحد حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ سی پیک 2.0 ٹیکنالوجی میں شراکت داری، تحقیق، تربیت اور صنعتی تعاون کے ذریعے اس تبدیلی میں معاونت کرسکتا ہے، جبکہ ضابطہ سازی، عمل درآمد اور کسانوں کے تحفظ کی ذمہ داری پاکستان کے اپنے اداروں کے پاس برقرار رہے گی۔

یہ مضمون پالیسی ویو ’’پاکستان میں زرعی ڈرونز کا ذمہ دارانہ اور قابلِ توسیع استعمال: سی پیک 2.0 کے تحت آزمائش سے وسیع پیمانے پر نفاذ تک کا راستہ‘‘ میں پیش کی گئی تحقیق پر مبنی ہے، جسے سینٹر آف ایکسیلینس فار سی پیک، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے شائع کیا ہے۔ مکمل تحقیق، شواہد اور مجوزہ طریقۂ کار کے مطالعے کے لیے قارئین درج ذیل لنک ملاحظہ کرسکتے ہیں:

https://pide.org.pk/research/responsible-and-scalable-agricultural-drone-adoption-in-pakistan-a-cpec-2-0-pilot-to-scale-pathway/

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف