راہول گاندھی کو ہتک عزت کے مقدمے میں بری کردیا گیا، بھارتی میڈیا
- راہول گاندھی پر الزام تھا کہ انہوں نے امیت شاہ کو قتل کے ملزم قرار دیا تھا
بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو مقامی عدالت نے ہتک عزت کے مقدمے میں بری کر دیا ہے۔
پیر کو ٹی وی چینلز کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب راہول گاندھی متنازع ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔
56 سالہ راہول گاندھی شمالی بھارتی شہر سلطان پور کی عدالت میں موجود تھے، جہاں ان کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں دیکھا گیا کہ بریت کے بعد عدالت سے باہر نکلنے پر ان کے حامیوں نے پٹاخے چلائے، ڈھول بجائے اور پارٹی پرچم لہرائے۔
راہول گاندھی پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 میں ریاستی انتخابات کی مہم کے دوران ایک تقریر میں بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ کو، جو اس وقت حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سربراہ تھے، قتل کے ملزم قرار دیا تھا۔
یہ مقدمہ اتر پردیش کے شہر سلطان پور میں بی جے پی کے ایک رکن نے دائر کیا تھا، جس کا فیصلہ پیر کو سنایا گیا۔
اس سے قبل 2023 میں وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات کی ایک عدالت نے مودی کنیت سے متعلق بیان پر راہول گاندھی کو ایک الگ ہتک عزت کے مقدمے میں سزا سنائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ مختصر عرصے کے لیے پارلیمان کی نشست سے محروم ہوگئے تھے۔

















Comments