اسرائیل کا فلائی دبئی طیارے پر حملے کی مکمل تحقیقات کا عزم، محرکات کا علم نہ ہوسکا
- شریک پائلٹ نے فلائی دبئی طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی، کپتان اور مسافروں کی مداخلت سے محفوظ لینڈنگ ممکن ہوئی، تحقیقات جاری
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل جانے والی مسافر پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے، تاہم ابتدائی جائزے کے مطابق طیارے کے شریک پائلٹ نے کپتان پر حملے میں اکیلے کارروائی کی۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ شریک پائلٹ نے کپتان کو چاقو مار دیا اور طیارہ تباہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھول دیا، جس کے بعد مسافروں نے حملہ آور کو قابو کرلیا۔
طیارے میں موجود متبادل عملے نے کنٹرول سنبھالتے ہوئے اسے سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا۔پرواز میں 170 سے زائد افراد سوار تھے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ حملہ آور سے سعودی عرب میں تفتیش کی جارہی ہے اور امکان ہے کہ اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا جائے گا۔
دو اسرائیلی سکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں شریک پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان سامنے آیا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔ اسرائیل کے متحدہ عرب امارات میں سفیر یوسی شیلی نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے اور واقعے کا محرک ابھی طے نہیں ہوا۔
پرواز کے دوران طیارہ سعودی عرب کی حدود میں تقریباً 30 سیکنڈ میں 14 ہزار فٹ نیچے آیا، تاہم عملے اور مسافروں کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل تحقیقات میں ممکنہ طور پر حصہ لے گا۔ ایرانی مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے بھی واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں، تاکہ اس کے محرکات، ممکنہ دہشت گردی، پیشگی منصوبہ بندی یا کسی بیرونی ہدایت کا تعین کیا جاسکے۔
























Comments