پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان پٹرول پمپ پر ہے
- پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان اسلام آباد میں ہونے والا اعلان نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پٹرول پمپ پر کھڑا شہری کیا محسوس کرتا ہے۔
یہ سمجھنے کا ایک بہت سادہ طریقہ ہے کہ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ایک عام پاکستانی کیلئے کیا معنی رکھتی ہیں۔
ایک چھوٹی سی ورکشاپ کے باہر کھڑی موٹر سائیکل کو دیکھیں۔ ایک اسپتال کے باہر انتظار کرتے رکشے کو دیکھیں۔ ایک ڈلیوری رائیڈر کو اپنے اگلے آرڈر کیلئے فون چیک کرتے ہوئے دیکھیں۔
اس شخص کو دیکھیں جو ہر صبح کام کیلئے روانہ ہونے سے پہلے اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول بھرواتا ہے اور اسے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جیب میں کتنے پیسے ہیں اور دن کے اختتام پر ان میں سے کتنے باقی بچیں گے۔
ان لوگوں کیلئے پٹرول کوئی آسائش نہیں۔ یہ روزی کمانے کی لاگت کا حصہ ہے۔
وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کو سمجھنے کیلئے نقطۂ آغاز یہی ہونا چاہیے۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ بدامنی اور اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈیوں پر بڑھنے والے دباؤ نے پاکستان جیسے ان ممالک کیلئے مشکل صورتحال پیدا کردی ہے جو درآمدی ایندھن پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ جب عالمی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف عالمی منڈیوں تک محدود نہیں رہتے۔ بالآخر یہ پٹرول پمپ، ٹرانسپورٹ نظام، اشیا کی قیمتوں اور آخرکار گھریلو بجٹ تک پہنچتے ہیں۔
اس کے بعد حکومت کیلئے سوال بالکل سیدھا ہے، جب مالی گنجائش محدود ہو تو ان لوگوں کو بامعنی ریلیف کیسے فراہم کیا جائے جو اس جھٹکے کو سب سے براہ راست محسوس کرتے ہیں؟
حکومت نے اس کا ہدف پر مبنی جواب دیا ہے۔
سب کیلئے پٹرول پر سبسڈی دینے کے بجائے اسکیم میں موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
یہ فرق اہم ہے۔
کام پر جانے یا ڈیلیوری کرنے کیلئے موٹر سائیکل استعمال کرنے والا شخص لازمی طور پر اسی معاشی صورتحال میں نہیں ہوتا جس میں ایک بڑی گاڑی کی ٹینکی بھرنے والا شخص ہوتا ہے۔
ریلیف کو ہدف تک محدود کرنا ہر مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ لیکن یہ ایک اہم حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جب وسائل محدود ہوں تو امداد ان لوگوں تک پہنچنی چاہیے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
تاہم اسکیم کا سب سے دلچسپ پہلو شاید اس کا اعلان نہیں بلکہ اعلان کے بعد پیش آنے والی صورتحال ہے۔
چند ہی دنوں میں حکومت کو شہریوں کی جانب سے رائے موصول ہوئی اور اس نے طریقۂ کار میں تبدیلی کردی۔
موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور رکشوں کیلئے پٹرول کی کم از کم پانچ لیٹر خریداری کی شرط ختم کردی گئی۔ اب اہل صارفین پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے کی صورت میں بھی 500 روپے کا ہفتہ وار ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔ انہیں ہر ہفتے ایک ایسا ٹوکن، یعنی ایک ماہ میں زیادہ سے زیادہ چار ٹوکن مل سکتے ہیں۔
یہ حکومت کے ایک نوٹیفکیشن میں درج کوئی معمولی انتظامی تبدیلی محسوس ہوسکتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔
اس شخص کے بارے میں سوچیں جس کیلئے ایک ہی بار میں پانچ لیٹر پٹرول خریدنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
تنخواہ دار خاندان یا یومیہ اجرت پر کام کرنے والے گھرانے کیلئے پیسوں کا انتظام اکثر دن بہ دن کیا جاتا ہے۔ ایک ایسی پالیسی جو میز کے پیچھے بیٹھ کر بالکل مناسب نظر آتی ہے، حقیقی زندگی میں لوگوں کیلئے مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔
حکومت نے یہ شرط تبدیل کردی۔ جوابدہ پالیسی کو ایسا ہی نظر آنا چاہیے۔
یہی بات دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کیلئے اہلیت 20 سال تک پرانی گاڑیوں تک بڑھانے کے فیصلے پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
ہم بعض اوقات پرانی موٹر سائیکل کو محض ایک پرانی موٹر سائیکل سمجھتے ہیں۔ لیکن جس خاندان کے پاس یہ ہوتی ہے، اس کیلئے ممکن ہے یہی وہ سواری ہو جو والد کو کام پر، والدہ کو بازار، بچے کو اسکول اور ڈلیوری رائیڈر کو اس کے اگلے گاہک تک پہنچاتی ہو۔ اس کی عمر اسے اس گھرانے کیلئے کم اہم نہیں بناتی۔
حقیقت میں اس کے برعکس ہوسکتا ہے، جو لوگ نئی گاڑی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کیلئے پرانی گاڑی کو چلتا رکھنا ہی زیادہ اہم ہوتا ہے۔
اسکیم کے تحت 800 سی سی تک کی گاڑیوں کیلئے بھی ریلیف جاری ہے، جس کے تحت ہر ماہ 10،10 لیٹر کے تین ٹوکن دیے جاتے ہیں اور 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔
لیکن اس پروگرام کا ایک اور حصہ بھی ہے جو خاصی زیادہ توجہ کا مستحق ہے، ریلیف کی فراہمی کس طرح کی جارہی ہے۔
رجسٹریشن 9771 پر ایک سادہ ایس ایم ایس نظام کے ذریعے کی جارہی ہے۔ حکومت نے رجسٹریشن کیلئے ایس ایم ایس مفت کردیا ہے اور یہ نظام درخواست گزار کی شناخت اور گاڑی کی معلومات کو ایندھن ریلیف کے طریقۂ کار سے منسلک کرتا ہے۔ شہری اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت کے بغیر رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔
ایسے ملک میں یہ بات اہم ہے جہاں ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی اب بھی یکساں نہیں ہے۔
صرف اسمارٹ فون صارفین کیلئے تیار کیا گیا حکومتی پروگرام غیر ارادی طور پر ان ہی لوگوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے جن کی مدد کرنے کی وہ کوشش کررہا ہے۔
اس کے برعکس ایس ایم ایس ایسی سہولت ہے جسے تقریباً ہر موبائل فون صارف سمجھتا ہے۔
اور یہاں ایک اہم اصول موجود ہے۔
اچھی عوامی پالیسی صرف اس بارے میں نہیں ہوتی کہ حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ اس بارے میں بھی ہوتی ہے کہ ایک عام شہری حکومت کے فیصلے سے حاصل ہونے والی سہولت تک کتنی آسانی سے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
پٹرول پمپ پر کھڑے کسی شخص کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اسلام آباد میں اس پالیسی کو تیار کرنا کتنا پیچیدہ تھا۔ اسے اس بات سے سروکار ہے کہ ایس ایم ایس موصول ہوتا ہے یا نہیں۔ ٹوکن کام کرتا ہے یا نہیں۔ پٹرول اسٹیشن اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔ اور یہ کہ وعدہ کیا گیا 500 روپے کا ریلیف واقعی اس کی ادا کی جانے والی رقم کم کرتا ہے یا نہیں۔
اسی لیے عملدرآمد اتنا ہی اہم ہے جتنا اعلان۔
حقیقت میں حکومت عملدرآمد کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کرتی رہی ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کنکشن دستیاب نہیں، بشمول ملک کے دور دراز علاقوں کے پٹرول اسٹیشنز کیلئے انتظامات کی منظوری دی گئی ہے۔ حکام رجسٹریشن، ٹوکن کے استعمال اور پٹرول اسٹیشنز کو ادائیگیوں کی بھی نگرانی کررہے ہیں۔
گورننس کا یہ وہ پہلو ہے جو شاذ و نادر ہی اخبارات کی شہ سرخی بنتا ہے۔ لیکن شہریوں کو عملی طور پر یہی حصہ محسوس ہوتا ہے۔
کسی پالیسی کا اعلان پریس کانفرنس میں کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ساکھ پٹرول پمپ پر قائم ہوتی ہے۔
یقیناً اسکیم کے حوالے سے سوالات اٹھیں گے۔ کیا ریلیف کافی ہے؟ کیا تمام اہل شہریوں تک یہ سہولت پہنچ رہی ہے؟ کیا تکنیکی مسائل موجود ہیں؟ کیا پٹرول اسٹیشنز کو بروقت رقم واپس ادا کی جارہی ہے؟ کیا اس کے مالی اخراجات پائیدار ہیں؟ کیا امداد کی کوئی دوسری شکل زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے؟
یہ جائز سوالات ہیں۔ انہیں ضرور پوچھا جانا چاہیے۔
درحقیقت کسی عوامی پروگرام کا مضبوط ترین دفاع یہ دکھاوا کرنا نہیں کہ اس میں کوئی کمزوری نہیں۔
بلکہ یہ دکھانا ہے کہ حکومت لوگوں کی بات سن رہی ہے، صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور مسائل کو دور کررہی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اسکیم کیلئے 75 ارب روپے کی منظوری دی ہے، جس کا بیان کردہ مقصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کم آمدنی والے طبقات کو ہدفی ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن ڈیجیٹل فیول پاس سسٹم چلا رہی ہے، جس کا مقصد شفاف طریقے سے ریلیف کی فراہمی اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔
عوامی وسائل سے ہونے والے اس بڑے اخراجات کے ساتھ ایک اتنی ہی اہم ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے، نتائج دکھانا۔
حکومت کو باقاعدگی سے شہریوں کو بتانا چاہیے کہ کتنے لوگوں نے رجسٹریشن کرائی، کتنے ٹوکن جاری کیے گئے، کتنے ٹوکن حقیقت میں استعمال ہوئے، کہاں مسائل پیش آرہے ہیں اور شکایات کتنی تیزی سے حل کی جارہی ہیں۔
شفافیت کو ایسی چیز نہیں سمجھنا چاہیے جو حکومت کے مؤقف کو کمزور کرتی ہے۔ یہ اسے مضبوط بناتی ہے۔
یہاں ایک وسیع تر امکان بھی موجود ہے۔ ہدفی ایندھن ریلیف کیلئے تیار کیا جانے والا ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچہ، مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ، مستقبل میں پیدا ہونے والے معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کیلئے ریاست کو بہتر طریقہ فراہم کرسکتا ہے۔
اگلا بحران ایندھن کا بحران نہ بھی ہو۔ یہ سیلاب ہوسکتا ہے۔ ہیٹ ویو ہوسکتی ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ میں خلل ہوسکتا ہے۔ یا زندگی گزارنے کی لاگت میں ایک اور اچانک اضافہ ہوسکتا ہے۔
اگر ریاست کمزور طبقات کے شہریوں کی شناخت کرکے کاغذی کارروائی کی کئی تہوں سے گزارے بغیر انہیں تیزی سے ہدفی امداد فراہم کرسکتی ہے تو یہ طرز حکمرانی میں ایک اہم بہتری ہوگی۔
لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی ذمہ داری بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ذاتی معلومات کا تحفظ ضروری ہے۔ ڈیٹا کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ شہریوں کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ریلیف حاصل کرنے کیلئے فراہم کی جانے والی ان کی معلومات کا بے احتیاطی سے غلط استعمال نہیں ہوگا۔
ڈیجیٹل حکومت کا مطلب شہریوں کیلئے زیادہ سہولت ہونا چاہیے، اعتماد میں کمی نہیں۔
تاہم بالآخر اس اسکیم کے بارے میں سب سے اہم بات ٹیکنالوجی، ڈیٹا بیس یا حتیٰ کہ پٹرول کے بارے میں بھی نہیں ہے۔
یہ ریاست اور شہری کے درمیان تعلق کے بارے میں ہے۔
ایک ڈلیوری رائیڈر کیلئے 500 روپے کا مطلب ایک اور دن کے ایندھن کے اخراجات کا کچھ حصہ ہوسکتا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ دن کی کمائی کا کم حصہ پٹرول کی ٹینکی میں چلا جائے۔ ہر صبح کام پر جانے والے ایک کارکن کیلئے اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ راشن، بچوں کے تعلیمی اخراجات یا یوٹیلیٹی بل کیلئے کچھ زیادہ رقم باقی رہ جائے۔ پرانی موٹر سائیکل استعمال کرنے والے ایک گھرانے کیلئے اس کا مطلب محض یہ ہوسکتا ہے کہ اس ہفتے ایک مالی پریشانی کم ہوگئی۔
قومی بجٹ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ رقوم معمولی محسوس ہوسکتی ہیں۔
لیکن ضروری نہیں کہ گھریلو بجٹ میں بھی یہ معمولی محسوس ہوں۔ اور شاید عوامی پالیسی کو جانچنے کا درست طریقہ بھی یہی ہے۔ اعلان کی جسامت سے نہیں۔ پریس کانفرنسوں کی تعداد سے نہیں۔ حتیٰ کہ اس کے گرد موجود سیاسی بحث سے بھی نہیں۔ بلکہ اس بات سے کہ پٹرول پمپ پر کھڑے شخص کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔
اگر اس شخص کو نظام قابلِ رسائی، حقیقی ریلیف، باعزت طریقۂ کار اور کسی مسئلے کی صورت میں حکومت جوابدہ نظر آتی ہے، تو حکومتی مداخلت نے محض سبسڈی کے اعلان سے زیادہ اہم کام کیا ہے۔
اس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مشکل معاشی دور میں بھی ریاست اعداد و شمار کے پیچھے موجود شہری کو دیکھ سکتی ہے۔
پٹرول سبسڈی کا اصل امتحان اسلام آباد میں ہونے والا اعلان نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ پٹرول پمپ پر کھڑا شہری کیا محسوس کرتا ہے۔
























Comments