نجی کمپنیوں کو براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور
- جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں اور اسپاٹ مارکیٹ میں بلند قیمتوں کے باعث ایل این جی کی ترسیل یقینی بنانے میں نمایاں مشکلات درپیش
حکومت مزید مالی دباؤ سے بچنے کیلئے پاور پلانٹس اور دیگر نجی کمپنیوں کو براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔
بلومبرگ نے بدھ کو معاملے سے واقف ایک شخص کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ قطر سے ایل این جی کی ترسیل رکنے کے باعث پاکستان کے دو ایل این جی درآمدی ٹرمینلز مارچ سے زیادہ تر غیر فعال ہیں جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں موجودہ قواعد و ضوابط کے باعث سرکاری ملکیتی ادارے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے علاوہ دیگر خریداروں کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدنا مشکل ہے۔
بلومبرگ کے مطابق وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے ٹرمینلز پر غیر استعمال شدہ گنجائش کی نیلامی کا دائرہ کار نمایاں طور پر بڑھانے اور نجی کمپنیوں کو براہِ راست ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
پاکستان کو اس وقت جغرافیائی سیاسی رکاوٹوں اور اسپاٹ مارکیٹ میں بلند قیمتوں کے باعث ایل این جی کی ترسیل یقینی بنانے میں نمایاں مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان مستحکم اور نسبتاً کم قیمت ایل این جی کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
تاہم آبنائے ہرمز میں دوبارہ کشیدگی کے باعث جولائی 2026 کے لیے مقرر قطری ایل این جی کی ایک کھیپ منسوخ کردی گئی اور قطر نے فورس میجر کا اعلان کردیا جس سے ایل این جی کی درآمدات متاثر ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر ایل این جی کی فراہمی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل ایندھن یا مہنگے اسپاٹ کارگو کی تلاش کرنا پڑی۔
رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کے وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا تھا کہ قلت پیدا ہونے کی صورت میں پٹرول کی قیمت ایک ہزار روپے فی لٹر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم انہوں نے کہا تھا کہ فی الحال ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے۔























Comments