پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ کے عسکری سربراہان کا دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت
- سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے گزشتہ ماہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے جمعہ کو ریاض میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فوجی رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کو مربوط بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع اور پاکستانی فوج کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا اور یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے مقدس شہر مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کے شہری اور اقتصادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کی۔
پاکستانی فوج نے مزید کہا کہ عسکری سربراہان نے تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے گزشتہ ماہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت اور فوجی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ معاہدہ تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پایا اور ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران جنگ نے خلیجی ممالک کو درپیش سکیورٹی خطرات کو نمایاں کردیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور دیگر اہم اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔
























Comments