کراچی پورٹ پر لائنر شپنگ رابطہ کاری کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
- کراچی پورٹ کی عالمی لائنر شپنگ خدمات سے رابطہ کاری میں نمایاں بہتری، پاکستان کی عالمی درجہ بندی بھی 35ویں سے 34ویں نمبر پر آگئی
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعرات کو کہا کہ کراچی پورٹ کا لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس (پی ایل ایس سی آئی) مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں ریکارڈ 343.02 تک پہنچ گیا۔
ایک بیان کے مطابق کراچی پورٹ کا پی ایل ایس سی آئی 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 309.81 سے بڑھ کر دوسری سہ ماہی میں 343.02 ہوگیا، جو دستیاب اعداد و شمار کے تحت اس عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔
پی ایل ایس سی آئی کسی بندرگاہ کے عالمی لائنر شپنگ نیٹ ورک سے انضمام کی پیمائش کرتا ہے، جس کے لیے دنیا بھر کی تقریباً 900 بندرگاہوں کا رابطہ کاری ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ انڈیکس میں اضافہ کراچی پورٹ اور بین الاقوامی لائنر شپنگ سروسز کے درمیان مضبوط روابط کی عکاسی کرتا ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں کو فروغ، عالمی منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور برآمد کنندگان و درآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
کراچی پورٹ کا پی ایل ایس سی آئی 2024 کی دوسری سہ ماہی میں 329.24 تھا، جو تیسری سہ ماہی میں کم ہوکر 319.20 اور چوتھی سہ ماہی میں 323.67 ہوگیا۔ یہ انڈیکس 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 321.70 اور دوسری سہ ماہی میں 321.84 رہا، جس کے بعد تیسری سہ ماہی میں کم ہوکر 298.56 ہوگیا۔
انڈیکس 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں بحال ہوکر 321.91 تک پہنچا، جبکہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ 309.81 رہا اور دوسری سہ ماہی میں بڑھ کر 343.02 کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
چوہدری نے پاکستان کی مجموعی لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس (ایل ایس سی آئی) کی عالمی درجہ بندی میں بھی بہتری کو اجاگر کیا، جو 35ویں سے 34ویں نمبر پر آگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بندرگاہی خدمات کو بہتر بنانے، شپنگ سرگرمیوں کو سہولت دینے اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بندرگاہی رابطہ کاری میں بہتری سے پاکستانی کاروباری اداروں کو عالمی منڈیوں سے زیادہ مؤثر انداز میں منسلک ہونے اور علاقائی و عالمی تجارت میں ملک کے کردار کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بندرگاہی حکام، شپنگ لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر بحری روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
























Comments