پی ایل ایل کا کے الیکٹرک کو آر ایل این جی سپلائی بند کرنے کا انتباہ
- پی ایل ایل اور کے الیکٹرک کے درمیان مجوزہ ویٹڈ ایوریج یا پولڈ آر ایل این جی قیمت کے طریقہ کار پر تنازع جاری ہے
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے کے الیکٹرک (کے ای) کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی کی کمپنی نے اپنے 8.7 ارب روپے کے واجبات فوری ادا نہ کیے تو وہ معاہدے کے تحت حاصل حقوق استعمال کرتے ہوئے آر ایل این جی کی فراہمی بند کرسکتی ہے۔
8 ستمبر 2026 کو کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر کو لکھے گئے خط میں پی ایل ایل نے کہا کہ واجب الادا رقم میں 8.5 ارب روپے اصل رقم جبکہ 20 کروڑ روپے تاخیر سے ادائیگی سرچارج (ایل پی ایس) شامل ہے۔
پی ایل ایل اور کے الیکٹرک کے درمیان مجوزہ ویٹڈ ایوریج یا پولڈ آر ایل این جی قیمت کے طریقہ کار پر تنازع جاری ہے۔ کے الیکٹرک نے اس طریقہ کار کے تحت قابل وصول سمجھی جانے والی رقم کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے ادائیگیاں روک رکھی ہیں۔
پی ایل ایل نے واضح کیا کہ اس کی سابقہ خط و کتابت میں نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) کے یکم جولائی 2026 کے اجلاس سے متعلق ہدایات کمپنی کی اپنی تشریح نہیں بلکہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس سے من و عن لی گئی تھیں، جو کے الیکٹرک سمیت تمام شرکا کو فراہم کیے گئے تھے۔
پی ایل ایل کے مطابق این سی ایم سی نے دو الگ اور آزاد ہدایات جاری کی تھیں۔ ایک پولڈ قیمت کے طریقہ کار کا جائزہ لینے سے متعلق تھی جبکہ دوسری میں کے الیکٹرک کو اپنے واجبات ترجیحی بنیادوں پر ادا کرنے اور ڈیبٹ سروسنگ سرچارج (ڈی ایس ایس) کی بلا تعطل ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
پی ایل ایل نے کہا کہ کے الیکٹرک نے پولڈ قیمت سے متعلق ہدایت کو اختیار کیا لیکن واجبات کی ادائیگی سے متعلق الگ ہدایت کو نظر انداز کیا۔
کمپنی کے مطابق ویٹڈ ایوریج قیمت کا طریقہ کار ابھی صرف زیر غور تجویز ہے اور اسے منظوری یافتہ طریقہ کار نہیں کہا جاسکتا۔ گیس سیل ایگریمنٹ کے تحت بلنگ اوگرا کی جانب سے نوٹیفائی کردہ آر ایل این جی قیمت کے مطابق ہوتی ہے، جبکہ کسی نئی قیمت کے طریقہ کار کے نفاذ کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ہدایات اور اس کے بعد اوگرا کا نوٹیفکیشن ضروری ہے۔
پی ایل ایل نے کے الیکٹرک کی جانب سے خود ساختہ پولڈ قیمت کے مطابق ادائیگیوں میں ایڈجسٹمنٹ کو یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
پی ایل ایل نے کہا کہ واجبات بڑھنے سے اس کی اپنی ایل این جی سپلائرز کو بروقت ادائیگی کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا کہ اگر 8.7 ارب روپے کے واجبات اور قابل اطلاق ایل پی ایس فوری ادا نہ کیے گئے تو وہ گیس سیل ایگریمنٹ کے تحت آر ایل این جی کی فراہمی بند کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات کرسکتی ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک نے کہا ہے کہ پی ایل ایل سے حاصل کردہ آر ایل این جی کی ادائیگیوں میں اس کی جانب سے کوئی تاخیر یا ڈیفالٹ نہیں ہوا۔ کے الیکٹرک کے مطابق یکم جولائی کے این سی ایم سی اجلاس میں متحدہ یا ویٹڈ ایوریج آر ایل این جی پول قیمت کے طریقہ کار پر عملدرآمد پر اتفاق ہوا تھا اور کمپنی نے مئی 2026 سے قیمتوں اور ادائیگیوں کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
کے الیکٹرک کے مطابق وہ اسپاٹ اور معمول کے کارگوز سے حاصل ہونے والے حقیقی آر ایل این جی مکس کی بنیاد پر ادائیگیاں کرتی رہی ہے اور اندازے کے مطابق تقریباً 4.2 ارب روپے اضافی ادا کرچکی ہے، جس کے لیے طریقہ کار نافذ ہونے کے بعد پی ایل ایل سے کریڈٹ نوٹ متوقع ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments