BR100 Decreased By (-0.77%)
BR30 Decreased By (-1.25%)
KSE100 Decreased By (-0.62%)
KSE30 Decreased By (-0.58%)
BAFL 56.77 Decreased By ▼ -0.10 (-0.18%)
BIPL 24.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.44%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.82%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.50 Decreased By ▼ -3.95 (-2.05%)
FABL 93.96 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
FCCL 52.08 Decreased By ▼ -0.71 (-1.34%)
FFL 14.55 Decreased By ▼ -0.17 (-1.15%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.44 (-2.25%)
HBL 304.89 Decreased By ▼ -1.21 (-0.4%)
HUBC 199.70 Decreased By ▼ -1.72 (-0.85%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.49 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
MLCF 91.30 Decreased By ▼ -1.86 (-2%)
OGDC 314.00 Decreased By ▼ -2.73 (-0.86%)
PAEL 35.25 Decreased By ▼ -0.38 (-1.07%)
PIBTL 14.69 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
PIOC 240.49 Decreased By ▼ -2.72 (-1.12%)
PPL 221.50 Decreased By ▼ -5.41 (-2.38%)
PRL 91.51 Decreased By ▼ -1.51 (-1.62%)
SNGP 90.88 Decreased By ▼ -0.96 (-1.05%)
SSGC 23.28 Decreased By ▼ -0.53 (-2.23%)
TELE 7.62 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
TPLP 12.71 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
TRG 56.13 Decreased By ▼ -0.43 (-0.76%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
پاکستان

برائن لارا کا عمران خان کو ’مناسب، آزادانہ‘ طبی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ

  • یہ سیاست نہیں، ہمارے کھیل کے ایک لیجنڈ کے لیے بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے، سابق ویسٹ انڈین کپتان
شائع اپ ڈیٹ

ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان برائن لارا نے پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور کرکٹ لیجنڈ عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مناسب اور آزادانہ طبی سہولت کے ساتھ ساتھ وہ عزت و وقار بھی فراہم کیا جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔

لارا نے اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا کہ کرکٹ کے میدان میں ان کا عمران خان سے صرف چند مرتبہ سامنا ہوا، تاہم ان کے دل میں عمران خان کے لیے پہلی ملاقات ہی سے گہرا اور دیرپا احترام پیدا ہوگیا تھا۔

’’عمران خان اور میرا کرکٹ کے میدان میں صرف چند مرتبہ سامنا ہوا، لیکن میرے دل میں ان کے لیے احترام فوراً پیدا ہوگیا اور آج بھی برقرار ہے،‘‘ لارا نے کہا۔

ویسٹ انڈیز کے سابق بلے باز نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جو شخص اپنے کھیل کے عروج پر اپنے ملک کے لیے ’’امید، فخر اور تحریک کا مینار‘‘ تھا، وہ آج ایسی صورتِ حال سے کیسے دوچار ہوگیا جہاں، لارا کے بقول، اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی اور اسے وہ ہمدردی اور عزت و وقار نہیں دیا جارہا جس کا وہ مستحق ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جو شخص اپنے کھیل کے عروج پر اپنے ملک کے لیے کبھی امید، فخر اور تحریک کا مینار تھا، وہ آج ایسی صورتِ حال سے کیسے دوچار ہوگیا جہاں اس کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی اور اسے وہ ہمدردی اور عزت و وقار نہیں دیا جارہا جس کا وہ مستحق ہے۔‘‘

لارا نے کہا کہ وہ اپنے سابق کرکٹ کپتانوں کے ساتھ مل کر عمران خان کو مناسب طبی علاج فراہم کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں اپنے سابق کپتان ساتھیوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں مناسب، آزادانہ طبی علاج فراہم کیا جائے اور وہ عزت و وقار دیا جائے جس کا ہر انسان مستحق ہے۔‘‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمران خان کے حامی ان کی صحت اور دورانِ قید طبی سہولت تک رسائی کے حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

عمران خان نے 1992 میں پاکستان کو پہلی اور اب تک کی واحد کرکٹ ورلڈ کپ فتح سے ہمکنار کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور 2018 سے 2022 تک ملک کے وزیرِ اعظم رہے۔ 2023 سے متعدد مقدمات کے سلسلے میں وہ جیل میں ہیں، جبکہ ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بارہا ان کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔

لارا نے زور دیا کہ ان کی اپیل کو سیاسی تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’یہ سیاست نہیں، ہمارے کھیل کے ایک لیجنڈ کے لیے بنیادی انسانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔‘‘

لارا کے بیان سے ان عالمی کرکٹ شخصیات کی آواز میں ایک اور آواز شامل ہوگئی ہے جنہوں نے عمران خان کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان کھیل کی تاریخ کے سب سے معروف آل راؤنڈرز اور کپتانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

بعد ازاں حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اسے چیلنج کردیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے ضابطے سے متعلق اعتراضات عائد کرتے ہوئے نظرثانی کی درخواست واپس کردی تھی۔

بعد ازاں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں طبی معائنے کے بعد پی ٹی آئی کے بانی کی صحت تسلی بخش پائی گئی۔

Comments

200 حروف