اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 100 انڈیکس 374 پوائنٹس بڑھ گیا
- کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 177,696.50 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو کاروباری سیشن کے دوران محتاط تیزی کے رجحان کے باوجود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، تاہم ہفتے کا اختتام مثبت سطح پر کیا۔
کاروبار کے آغاز میں انڈیکس پر فروخت کا دباؤ رہا اور یہ دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 177,165.27 پوائنٹس تک گر گیا، تاہم بعد ازاں بتدریج بحالی ہوئی اور انڈیکس 177,700 پوائنٹس کی سطح کی جانب بڑھا۔ اس کے بعد کاروباری سیشن کے بیشتر حصے میں مارکیٹ اسی سطح کے آس پاس محدود دائرے میں رہی۔
کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں خریداری کا رجحان بڑھنے سے انڈیکس دورانِ کاروبار کی بلند ترین سطح 178,042.78 پوائنٹس تک پہنچ گیا، تاہم یہ اضافہ برقرار نہ رہ سکا اور منافع کے حصول کیلئے حصص کی فروخت شروع ہونے سے انڈیکس دوبارہ تیزی سے گر کر 177,300 سے 177,400 پوائنٹس کی حدود میں آگیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 373.73 پوائنٹس یا 0.21 فیصد اضافے سے 177,696.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ اس اضافے کی وجہ ایران سے متعلق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششوں میں پیش رفت کے آثار کے باعث مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار سسٹمز لمیٹڈ، بینک آف پنجاب ، حبیب بینک لمیٹڈ، میزان بینک لمیٹڈ اور انٹرلوپ لمیٹڈ کا رہا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 594 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا جہاں کاروبار کے ابتدائی اضافے کے بعد اختتامی سیشن میں منافع کے حصول کے لیے فروخت نے تیزی کے اثرات زائل کردیئے جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ بند ہوا، جبکہ سرمایہ کاروں کی جانب سے منتخب حصص میں پوزیشن لینے کے باعث وسیع تر مارکیٹ کے اشاریے بھی زیادہ تر منفی زون میں بند ہوئے۔گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 47.93 پوائنٹس یا 0.03 فیصد کمی سے 177,322.78 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر این وڈیا کی جانب سے ٹیکنالوجی شعبے میں تیزی کے بعد جمعہ کو ایشیائی حصص میں محتاط رویہ دیکھا گیا جبکہ کرنسی اور بانڈ مارکیٹیں دنیا کے سب سے بااثر مرکزی بینکر کی جانب سے امریکی شرح سود سے متعلق خطاب کی منتظر رہیں۔
تیل کی قیمتیں ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی جانب گامزن رہیں کیونکہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام اور آمدنی کی تقسیم پر متفق ہوگئے تھے تاہم واشنگٹن نے تہران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات بحال کرنے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 0.1 فیصد کمی سے 89.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی تاہم ہفتہ وار بنیاد پر قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان سے باہر ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر انڈیکس 0.1 فیصد بڑھا جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ رہا۔
تائیوان کے حصص میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ چِپ ساز کمپنی اینوڈیا کے مضبوط مالی نتائج اور اس اشارے کے بعد کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات میں تیزی کا سلسلہ کئی برس تک جاری رہ سکتا ہے کمپنی کے حصص کی قیمت راتوں رات تقریباً 9 فیصد بڑھ گئی۔ تاہم جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ایک فیصد گر گیا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.3 فیصد کمی کا شکار رہا۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ہوئی جبکہ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ رہے۔
تمام نظریں فیڈرل ریزرو کے جیکسن ہول سمپوزیم پر مرکوز ہیں جہاں چیئرمین کیون وارش دن کے بعد خطاب کریں گے۔
فیڈرل ریزرو کے تین عہدیدار پہلے ہی مسلسل بلند مہنگائی کے حوالے سے خبردار کرچکے ہیں تاہم مرکزی بینک کے نئے سربراہ نے شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے پیشگی رہنمائی دینے سے گریز کیا ہے۔
فیوچرز مارکیٹ کے مطابق 16 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے تقریباً 35 فیصد امکانات ہیں جبکہ دسمبر تک شرح سود میں اضافے کی مکمل توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ برقرار رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے سے 277.50 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 614.06 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 658.33 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 34.55 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 31.45 ارب روپے رہی۔
بینک آف پنجاب حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے 91.72 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔ سینرجیکو پی کے کے 90.86 ملین حصص جبکہ ورلڈ کال ٹیلی کام کے 46.40 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں سے 202 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 257 میں کمی جبکہ 35 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

























Comments