پاکستان کا درآمدی چیلنج: بڑھتا اور بے لگام انحصار
- پاکستان اس وقت بیک وقت ایسے دو اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں توازن قائم کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے: ایک جانب امریکا کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید وسعت دینا اور دوسری جانب ایسے شعبوں میں چینی درمیانی درجے کے خام مال پر انحصار بڑھانا جن پر امریکا نے نگرانی اور کارروائی مزید سخت کردی ہے۔
مالی سال 2026 کا اختتام 39.6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کے ساتھ ہوا، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ صرف ٹیکسٹائل کی درآمدات 6.46 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں کپاس، کاٹن یارن، مختلف اقسام کے کپڑے اور دیگر ٹیکسٹائل خام مال شامل ہیں۔
پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر تشویش اپنی جگہ، تاہم ٹیکسٹائل شعبے میں اس سے بھی زیادہ پریشان کن رجحان سامنے آ رہا ہے۔ مالی سال 2024 سے مالی سال 2026 کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 7.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ٹیکسٹائل درآمدات 138 فیصد بڑھ گئیں، جس کے نتیجے میں اسی عرصے میں ٹیکسٹائل تجارت کا توازن مزید 17.7 فیصد بگڑ گیا۔
ایک دہائی قبل پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان خام مال کے معاملے میں بڑی حد تک خودکفیل تھے، تاہم مقامی سطح پر کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث صنعت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر بڑھتے ہوئے انحصار پر مجبور ہوگئی ہے۔

نتیجتاً مالی سال 2026 میں کپاس کی درآمدات 1.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ (پی آر اے ایل) زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ انحصار اب صرف کپاس تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان ٹیکسٹائل کی درمیانی نوعیت کی مصنوعات کی درآمدات پر بھی تیزی سے انحصار کر رہا ہے۔
ایسی معیشت کے لیے، جہاں پہلے ہی ڈالر کی قلت کے باعث بیرونی توازن برقرار رکھنا ایک مشکل امر ہے، درآمدات میں یہ تیز رفتار اضافہ ایک سنگین چیلنج ہے۔ مزید یہ کہ ان درآمدات کا ایک بڑا حصہ چین سے آنے کے باعث سپلائی چین سے متعلق خطرات کی ایک اور سطح پیدا ہوگئی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ان درآمدات کا ماخذ کیوں اہم ہے؟
امریکا نے 2022 میں اوئیغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون (یو ایف ایل پی اے) پر عمل درآمد شروع کیا، جس کے تحت چین میں مکمل یا جزوی طور پر جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جانے والی اشیا کی درآمد پر پابندی ہے، بالخصوص سنکیانگ اوئیغور خودمختار خطے میں تیار ہونے والی مصنوعات پر۔ حال ہی میں امریکا نے یو ایف ایل پی اے کے تحت کارروائی مزید سخت کرتے ہوئے مزید 43 چینی اداروں کو یو ایف ایل پی اے انٹیٹی لسٹ میں شامل کیا، جس کے بعد فہرست میں شامل اداروں کی مجموعی تعداد 187 ہوگئی۔ اس فہرست میں ملبوسات، کپاس اور کپاس سے تیار کردہ مصنوعات سمیت کئی ترجیحی شعبے شامل ہیں۔
یو ایف ایل پی اے کے نفاذ کے بعد سے امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے تقریباً 3.7 ارب ڈالر مالیت کی 16,700 سے زائد کھیپوں کا جائزہ لیا ہے۔ ان کھیپوں میں ملبوسات اور آٹو پارٹس سے لے کر کیمیکلز، الیکٹرانکس، فرش سازی کے سامان اور سولر پینلز تک مختلف مصنوعات شامل تھیں، جن کا جائزہ جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر لیا گیا۔
حال ہی تک بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ اقدامات صرف چین تک محدود رہیں گے، تاہم اب یہ مفروضہ درست نہیں رہا۔
حال ہی میں امریکا نے 60 معیشتوں میں جبری مشقت کے طریقہ کار سے متعلق سیکشن 301 کی تحقیقات مکمل کیں۔ تحقیقات کے بعد تمام زیرِ جائزہ معیشتوں پر محصولات عائد کیے گئے، جن میں پاکستان پر 10 فیصد ٹیرف بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان میں جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے لیے جامع فریم ورک موجود نہیں۔
اگرچہ محصولات تشویش کا باعث ہیں، تاہم معاملہ صرف ان تک محدود نہیں۔ سیکشن 301 کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات برآمد کرنے والی معیشتوں سے مستقبل میں یہ ثابت کرنے کا تقاضا ہوسکتا ہے کہ ان کی مصنوعات میں یو ایف ایل پی اے انٹیٹی لسٹ میں شامل اداروں کا تیار کردہ کوئی خام مال استعمال نہیں ہوا۔ انہیں چین سے درآمد کیے جانے والے خام مال کے ماخذ کی بھی تصدیق کرنا پڑ سکتی ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ تحقیقات میں قرار دیا گیا ہے کہ یو ایف ایل پی اے کے تحت پابندی کے زمرے میں آنے والی کپاس تیسرے ممالک میں قائم درمیانی درجے کے مینوفیکچررز کے ذریعے امریکا میں جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر عائد پابندی سے بچ نکلنے کا نمایاں خطرہ رکھتی ہے۔ ان ممالک میں بھارت، انڈونیشیا، میکسیکو، سری لنکا، ویتنام، ایتھوپیا، کینیا اور پاکستان شامل ہیں۔
یہ پوری تحقیقات کا شاید سب سے اہم نکتہ ہے، تاہم پاکستان میں اسے حیرت انگیز طور پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان کی تقریباً 30 فیصد درآمدات چین سے آتی ہیں، جبکہ اس کی تقریباً 22 فیصد برآمدات امریکا جاتی ہیں۔ چنانچہ چینی درمیانی درجے کے خام مال پر پاکستان کا بڑھتا انحصار، اور ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے امریکی منڈی پر اس کا انحصار، سپلائی چین سے متعلق ایک پیچیدہ مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔
درآمدات کا ارتکاز اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے۔ پی آر اے ایل کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان کے کاٹن یارن کی درآمدات کا 94 فیصد چین سے آیا، جو مالی سال 2025 میں معمولی کمی کے باوجود 86 فیصد رہا۔ اسی عرصے کے دوران پاکستان نے اپنی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 27 فیصد مصنوعات امریکا کو برآمد کیں۔
یہ رجحان پالیسی سازوں اور برآمد کنندگان، دونوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔
پاکستان اس وقت بیک وقت ایسے دو اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن میں توازن قائم کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے: ایک جانب امریکا کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید وسعت دینا اور دوسری جانب ایسے شعبوں میں چینی درمیانی درجے کے خام مال پر انحصار بڑھانا جن پر امریکا نے نگرانی اور کارروائی مزید سخت کردی ہے۔
جو متعلقہ حلقے صورتحال کی سنگینی کو پوری طرح محسوس نہیں کر رہے، انہیں سمجھنا چاہیے کہ جبری مشقت کے الزامات بین الاقوامی تجارت میں سامنے آنے والے انتہائی سنگین اور نقصان دہ الزامات میں شمار ہوتے ہیں۔
ماضی میں پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات کو امریکا کی جانب سے سپلائی چین کی پابندیوں کا سامنا نہیں رہا اور نہ ہی کسی پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کار کو امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کی جانب سے ودہولڈ ریلیز آرڈر (ڈبلیو آر او) کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان نسبتاً قواعد کی پابندی کرنے والے اور قابلِ اعتماد سورسنگ مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم یو ایف ایل پی اے، 2026 کی سیکشن 301 تحقیقات، اس میں پاکستان کا واضح ذکر اور اس کے نتیجے میں عائد ہونے والا ٹیرف ایسی اہم پیش رفت ہیں جنہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
پاکستان کا ردعمل صرف امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کو مضبوط ٹریس ایبلٹی نظام کے ذریعے ملک میں داخل ہونے والی اشیا کی بھی کڑی جانچ پڑتال کرنا ہوگی۔ جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے جامع فریم ورک بلا تاخیر وضع کیا جانا چاہیے۔ سب سے بڑھ کر کسٹمز حکام کو ٹیکسٹائل خام مال، بالخصوص یارن اور کپڑے، کے ماخذ کی تصدیق کا ایسا نظام متعارف کرانا چاہیے جس کے ذریعے عالمی منڈیوں، بالخصوص امریکا، کے لیے برآمد کی جانے والی پاکستانی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال کی اصل کا مکمل طور پر تعین کیا جاسکے۔
پاکستان تاحال اپنی درآمدی پالیسی کو برآمدی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کوئی اسٹریٹجک حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکا۔
تاہم اگر یہ اقدامات اٹھائے جائیں تو نہ صرف جبری مشقت سے متعلق درآمدی تقاضوں کی پاسداری یقینی بنانے میں مدد ملے گی بلکہ حکومت کو درآمدات میں کم مالیت ظاہر کرنے اور غلط بیانی جیسے دو دیرینہ مسائل سے نمٹنے کا موقع بھی ملے گا، جو بدستور حل طلب ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments