توانائی کا تحفظ: پاکستان نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کے قیام کا جائزہ شروع کردیا
- حالیہ آبنائے ہرمز بحران نے پاکستان کے توانائی تحفظ کے لیے حفاظتی ذخائر مضبوط بنانے کی ضرورت مزید اجاگر کردی ہے
ایک اہم پیش رفت کے طور پر وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے منگل کو پاکستان میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (ایس پی آر) کے قیام سے متعلق فزیبلٹی اسٹڈی کے آغاز کے اجلاس کی صدارت کی۔ بین الاقوامی توانائی مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کو مسابقتی ٹینڈر کے ذریعے اس مطالعے کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس میں چار بولیاں موصول ہوئی تھیں۔
علی پرویز ملک کو اس جائزے کے دائرہ کار اور مقاصد کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس کے بعد اجلاس میں اس کام کے لیے مقررہ مدت اور مجموعی طریقۂ کار پر غور کرکے اتفاق کیا گیا۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت پاکستان کے توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات اور مختلف اقدامات پر عمل پیرا ہے، کیونکہ توانائی کا تحفظ قومی سلامتی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی فراہمی میں پائیداری یقینی بنانا اور بیرونی جھٹکوں سے پیدا ہونے والے خطرات کم کرنا موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ آبنائے ہرمز بحران نے توانائی کی رسد میں ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے حفاظتی ذخائر مضبوط بنانے اور زیادہ پائیداری پیدا کرنے کی ضرورت مزید اجاگر کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کا اقدام ممکنہ رسدی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے ملک کی تیاری بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) پہلے ہی بین الاقوامی سطح کی بڑی آئل کمپنیوں کے لیے ایک معیاری بانڈڈ اسکیم کی منظوری دے چکی ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ اس مطالعے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اس بڑے تزویراتی اقدام کو شروع کرنے سے قبل دستیاب شواہد اور حقائق کی بنیاد پر باخبر فیصلہ کرسکے۔
انہوں نے زور دیا کہ مطالعہ پاکستان کی ضروریات سے ہم آہنگ ایک عملی اور قابلِ عمل حل پیش کرے اور آگے بڑھنے کے موزوں ترین راستے کا تعین کرنے میں مدد دے، جس میں اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر مرحلہ وار قائم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
ووڈ میکنزی کی ٹیم نے کہا کہ پاکستان کے لیے توانائی کے تحفظ پر کام شروع کرنے کا یہ موزوں وقت ہے، خصوصاً عالمی توانائی کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور حالیہ رسدی تعطل کے تناظر میں۔ ٹیم کے مطابق مطالعے میں پاکستان کی مخصوص ضروریات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک عملی حل وضع کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
مطالعے میں مجوزہ اسٹریٹجک ذخیرہ گاہوں کی تکنیکی فزیبلٹی، انفرااسٹرکچر کی سالمیت، حفاظتی تقاضوں اور آپریشنل امور کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی اور علاقائی معیارات، پالیسی و ریگولیٹری تقاضوں اور قلیل، درمیانی اور طویل مدتی بنیادوں پر عمل درآمد کے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اس میں قانونی، ریگولیٹری، مالی، تجارتی اور ادارہ جاتی انتظامات کا بھی جائزہ شامل ہوگا، جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ممکنہ ماڈلز بھی زیرِ غور آئیں گے۔
مطالعے میں موجودہ انفرااسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا جائے گا جسے اسٹریٹجک ذخیرہ اندوزی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس دوران رابطہ کاری اور لاجسٹکس کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کی مرحلہ وار استعداد بڑھانے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات، فنانسنگ کے آپشنز، عمل درآمد کی مدت اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کے تخمینے بھی پیش کیے جائیں گے۔
وزیر پٹرولیم نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ ووڈ میکنزی کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور مطلوبہ اعداد و شمار اور تکنیکی معلومات بروقت فراہم کریں تاکہ مطالعہ طے شدہ مدت میں مکمل ہو اور مستقبل کی پالیسی سازی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکے۔
اس معاملے پر پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی۔
























Comments