اگست میں مہنگائی دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچنے کا امکان
- غذائی اشیا اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ ماہانہ مہنگائی بڑھانے کا سبب بنے گا، تجزیہ کار
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں ہیڈلائن افراطِ زر کی شرح اگست میں دوبارہ دو ہندسوں میں پہنچنے کا امکان ہے جبکہ غذائی اشیا اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ ماہانہ مہنگائی بڑھانے کا سبب بنے گا۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز، ٹاپ لائن سیکیورٹیز اور جے ایس گلوبل کے تخمینوں کے مطابق اگست میں افراطِ زر کی شرح سالانہ 10.75 سے 11.3 فیصد رہنے کا امکان ہے جو جولائی کی 9.21 فیصد شرح سے زیادہ ہوگی۔ یہ شرح ایک سال قبل ریکارڈ کی گئی 3 فیصد افراطِ زر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہوگی جس کی وجہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ناموافق بنیادی اثر بھی ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2026 میں پاکستان کی ہیڈلائن افراطِ زر کی شرح سالانہ 9.2 فیصد رہی۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے اگست میں ماہانہ افراطِ زر میں 1.2 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے 1.06 فیصد ماہانہ اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ اگست میں غذائی افراطِ زر میں ماہانہ 1.82 فیصد اضافے کا امکان ہے جس کی بنیادی وجہ پیاز کی قیمتوں میں 48 فیصد، انڈوں میں 10 فیصد، دال چنے میں 7 فیصد اور گندم کی قیمت میں 6 فیصد اضافہ ہے۔
اسی طرح اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے مطابق ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں اضافے میں غذائی اشیا کا حصہ تقریباً 70 بیسس پوائنٹس رہنے کا امکان ہے جس کی وجہ پیاز، مرغی، انڈے، آلو، دالوں اور تازہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ بروکریج ہاؤس کے مطابق سپلائی معمول پر آنے کے بعد اس اضافے کا بیشتر حصہ ختم ہونے کا امکان ہے۔
ٹرانسپورٹ اخراجات سے بھی مہنگائی میں ایک اور نمایاں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے کہا کہ موٹر ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ شعبے کی جانب سے افراطِ زر میں مزید 20 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ہے۔ یہ وہ اضافہ ہے جس کی ہم نے گزشتہ ماہ نشاندہی کی تھی تاہم جولائی کے آخر میں ایکس ڈپو قیمتوں میں ہونے والی نظرثانی اتنی تاخیر سے ہوئی کہ وہ جولائی کے انڈیکس میں شامل نہ ہوسکی۔
اسی طرح ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا اندازہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن بڑھنے کے باعث ٹرانسپورٹ شعبے میں قیمتیں بڑھیں گی۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق چونکہ اب ایندھن کی قیمتوں کا حساب مہینے کے آخری دن تک ویٹڈ ایوریج کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے اس لیے ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ موٹر فیول کی قیمتیں ٹرانسپورٹ انڈیکس میں ہونے والے اضافے میں تقریباً 5 فیصد حصہ ڈالیں گی۔
دریں اثنا جے ایس گلوبل جس نے اگست میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی شرح 10.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے نے کہا کہ تازہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی اہم تجارتی گزرگاہوں میں رکاوٹوں نے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے محتاط رویہ اختیار کیا۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق بیرونی خطرات کی وجہ سے مزید مالی نرمی کی گنجائش محدود ہونے کے پیش نظر مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے گزشتہ اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھا۔

























Comments