ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز آئی پی او: تازہ پیداوار کے شعبے کو ادارہ جاتی سرمائے کی ضرورت ہے، سی ایف او
- سرگودھا کی کمپنی آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے تقریباً 1.9 ارب روپے حاصل کرنے کی خواہاں ہے
پنجاب میں قائم آم، کینو اور آلو برآمد کرنے والی کمپنی ایس ای فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں لسٹ ہونے والی تازہ پھلوں اور سبزیوں کی پہلی کمپنی بننے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) کے مطابق یہ پیش رفت ایسے شعبے کے لیے ادارہ جاتی سرمائے کی راہ ہموار کر سکتی ہے جو طویل عرصے سے غیر رسمی فنانسنگ پر انحصار کرتا آیا ہے۔
سی ایف او رائے عمر نے بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں کہا، ’’یہ ایک اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اس شعبے کو طویل عرصے سے سرمائے کی کمی اور بینکاری سہولیات کی ناکافی دستیابی کا سامنا رہا ہے۔ اب ہماری آمد سے اس شعبے کو عالمی اور مقامی سطح پر بھی شناخت ملے گی۔‘‘
سرگودھا میں قائم کمپنی آئندہ ماہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے تقریباً 1.9 ارب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
عمر نے کہا کہ کمپنی کی لسٹنگ کا مقصد قرضوں کی ادائیگی نہیں بلکہ ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’گزشتہ کئی برسوں کے تجربے سے ظاہر ہوا ہے کہ ہمارے بین الاقوامی صارفین کی طلب مسلسل ہماری ورکنگ کیپیٹل کی استعداد سے زیادہ رہی ہے۔ لہٰذا رکاوٹ صارفین کی طلب نہیں بلکہ اس سرمائے کی مقدار ہے جو عروج کے سیزن میں زیادہ مقدار میں پیداوار خریدنے، پراسیس کرنے اور برآمد کرنے کے لیے دستیاب ہوتی ہے۔‘‘
سی ایف او کے مطابق آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کا تقریباً 78 فیصد کسانوں کو پیشگی ادائیگیوں اور ادھار پر کی جانے والی فروخت کے لیے استعمال ہوگا۔ مزید 3 سے 4 فیصد رقم متحدہ عرب امارات میں ایک ذیلی کمپنی اور ازبکستان میں ایک رابطہ دفتر قائم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔
پی ایس ایکس میں رواں سال 2026 کے دوران آئی پی او مارکیٹ میں نمایاں بحالی دیکھی گئی ہے، جس سے مضبوط رفتار اور لسٹنگ کے بعد حصص کی بہتر کارکردگی کا اظہار ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس سرگرمی کی بنیادی وجوہات میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بہتر ہونے والا معاشی استحکام، مارکیٹ کا مثبت رجحان، وافر لیکویڈیٹی، شرح سود میں کمی اور سیاسی استحکام شامل ہیں۔
سمندر میں چھوٹی مچھلی
ایس ای فروٹس کے مطابق مالی سال 2026 میں کمپنی کا ٹاپ لائن ریونیو تقریباً 7.6 ملین ڈالر رہا، جبکہ پاکستان سے پھلوں اور سبزیوں کی مجموعی برآمدات 470 ملین ڈالر تھیں۔
عمر نے کہا، ’’آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہم ایک بہت چھوٹے کھلاڑی ہیں، ہماری مارکیٹ شیئر 2 فیصد سے زیادہ نہیں۔‘‘
سی ایف او نے بتایا کہ کمپنی نے برآمدات کے لیے 23 ہدفی منڈیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں زیادہ تر خلیجی ممالک، عراق، وسطی ایشیا، مشرق بعید کے بعض ممالک اور یورپ شامل ہیں۔
عمر کے مطابق، ’’پاکستان ان ممالک کی درآمدی طلب کا صرف 13 فیصد پورا کر رہا ہے، جبکہ یہ ممالک زیادہ مقدار میں تازہ پھل اور سبزیاں درآمد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اپنی زرعی پیداوار کا صرف 5 سے 15 فیصد برآمد کرتا ہے، جبکہ فصل کے بعد ناقص انتظام اور کولڈ اسٹوریج کی ناکافی سہولیات کے باعث ’’30 سے 40 فیصد پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔‘‘
عمر نے کہا، ’’تقریباً 2.7 سے 3 ارب ڈالر مالیت کی زرعی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔‘‘
آمدن 7 سے 10 گنا بڑھانے کا ہدف
عمر کے مطابق کمپنی آئندہ پانچ برسوں میں اپنی آمدن 7 سے 10 گنا بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں موجودہ تقریباً 2 ارب روپے کی فروخت بڑھ کر 15 سے 20 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال مشرقِ وسطیٰ میں تنازع اور پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث شپنگ اور زمینی تجارتی راستے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں پاکستان کی پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات 700 ملین ڈالر سے کم ہو کر 470 ملین ڈالر رہ گئیں۔
عمر نے کہا، ’’جاری تنازع کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے صارفین کی جانب سے ہماری مصنوعات کے بارے میں استفسارات اور طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جغرافیائی قربت ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ وہ اپنی درآمدی ضروریات کے ذرائع میں تنوع چاہتے ہیں۔‘‘
عمر کو توقع ہے کہ ہارٹی کلچر کا شعبہ 700 ملین ڈالر کی سطح پر واپس آئے گا اور اس کے بعد دو برسوں میں مزید 30 فیصد ترقی کرے گا۔
انہوں نے کہا، ’’اگلے دو برسوں میں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات ایک ارب ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
























Comments