BR100 Decreased By (-0.71%)
BR30 Decreased By (-1.37%)
KSE100 Decreased By (-0.6%)
KSE30 Decreased By (-0.59%)
BAFL 56.84 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.08 Decreased By ▼ -0.27 (-0.89%)
CNERGY 12.92 Decreased By ▼ -0.20 (-1.52%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.80 Decreased By ▼ -0.34 (-0.36%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.46 Decreased By ▼ -0.26 (-1.77%)
GGL 19.22 Decreased By ▼ -0.34 (-1.74%)
HBL 304.98 Decreased By ▼ -1.12 (-0.37%)
HUBC 199.99 Decreased By ▼ -1.43 (-0.71%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.22 Decreased By ▼ -0.24 (-0.91%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -1.76 (-1.89%)
OGDC 313.99 Decreased By ▼ -2.74 (-0.87%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 241.95 Decreased By ▼ -1.26 (-0.52%)
PPL 221.30 Decreased By ▼ -5.61 (-2.47%)
PRL 91.20 Decreased By ▼ -1.82 (-1.96%)
SNGP 90.70 Decreased By ▼ -1.14 (-1.24%)
SSGC 23.29 Decreased By ▼ -0.52 (-2.18%)
TELE 7.56 Decreased By ▼ -0.24 (-3.08%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 56.25 Decreased By ▼ -0.31 (-0.55%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کا اپنی جماعت پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

  • دو سال قبل ڈھاکہ میں حکومت مخالف احتجاج کے باعث 20 برس پر محیط وزارتِ عظمیٰ کا دور اختتام پذیر ہونے کے بعد حسینہ واجد ملک چھوڑ کر فرار ہو گئی تھیں
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بدھ کو اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جائیں گی۔

حسینہ واجد نے یہ باتیں 2024 میں اپنی حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی کے موقع پر نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام میڈیا سے گفتگو کے دوران کہیں۔

شیخ حسینہ سے توقع تھی کہ وہ اس تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گی، تاہم انہوں نے صرف آڈیو پیغام جاری کیا۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے ویڈیو کے ذریعے شرکت کیوں نہیں کی، جبکہ ان سے قبل ان کی جماعت کے دیگر رہنما اور ان کے صاحبزادے نے ویڈیو کے ذریعے خطاب کیا تھا۔

معزولی کے بعد میڈیا کے ساتھ یہ ان کی پہلی براہِ راست گفتگو تھی۔

خالی ویڈیو اسکرین کے پیچھے سے آڈیو پیغام دیتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا، ”میں اپنے عوام کے پاس واپس آؤں گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ وطن واپسی کی حتمی تاریخ اور دیگر تفصیلات مناسب وقت آنے پر بتائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا، ”وہ میرے خلاف من گھڑت مقدمات قائم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن خوف میرے عوام کے لیے میری ذمہ داری، میری زندگی یا میرے فیصلوں کا تعین نہیں کر سکتا۔“

78 سالہ حسینہ واجد نے گزشتہ ماہ رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک بنگلہ دیش واپس جا کر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

دو سال قبل ڈھاکہ میں حکومت مخالف احتجاج کے نتیجے میں مختلف ادوار پر محیط ان کی 20 سالہ وزارتِ عظمیٰ کا خاتمہ ہوا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کی جنگی جرائم کی عدالت نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے الزام میں عدم موجودگی میں انہیں سزائے موت سنائی تھی، تاہم انہوں نے جلاوطنی کے دوران ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ادھر وزیراعظم طارق رحمان کی قیادت میں فروری میں اقتدار میں آنے والی نئی بنگلہ دیشی حکومت نے منگل کو ملکی ذرائع ابلاغ کو خبردار کیا کہ وہ شیخ حسینہ کے بیانات شائع یا نشر نہ کریں، کیونکہ ایسا کرنا 2024 کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوگا، جس کے تحت ان کی تقاریر اور بیانات کی اشاعت اور نشریات پر پابندی عائد ہے۔

شیخ حسینہ کے تازہ بیانات پر بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ڈھاکہ حکومت متعدد بار بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اسے یہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Comments

200 حروف