تھر کوئلے کی ریل کے ذریعے ترسیل کیلئے 10 ارب روپے کی گرانٹ منظور
- یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے
حکومت نے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی تھر کوئلے کی بجلی گھروں اور صنعتی صارفین تک ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔
وزارتِ ریلوے، حکومت سندھ کے تعاون سے، مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) معاہدے کے تحت اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
وزارتِ ریلوے کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) پہلے ہی موجودہ ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ تھر کول ریل کنیکٹیویٹی، بشمول پورٹ قاسم تک آخری مرحلے کی ریل رابطہ کاری کے منصوبے کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظوری دے چکی ہے۔
یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف درآمدی کوئلے پر چلنے والے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو مقامی کوئلہ فراہم کیا جا سکے بلکہ ملک بھر کی سیمنٹ، کھاد اور اسٹیل صنعتوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔
جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت منصوبے کی لاگت وفاقی حکومت اور حکومت سندھ برابر برابر برداشت کریں گی۔ وفاقی حکومت کا حصہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت بروقت اور مساوی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی تاکہ منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور ٹھیکیداروں کے دعوؤں سے بچا جا سکے۔
وزارتِ ریلوے نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ پہلے ہی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ- ون میں 10 ارب روپے منتقل کر چکی ہے۔
تاہم وزارت نے وضاحت کی کہ ان فنڈز کے استعمال کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کرنے کی خاطر 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ درکار تھی۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس گرانٹ سے وفاقی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ یہ رقم پہلے ہی حکومت سندھ فراہم کر چکی ہے۔
منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت اور فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ ریلوے نے ای سی سی سے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments