BR100 Decreased By (-0.66%)
BR30 Decreased By (-1.25%)
KSE100 Decreased By (-0.56%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 56.90 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.92%)
CNERGY 12.93 Decreased By ▼ -0.19 (-1.45%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.85 Decreased By ▼ -4.60 (-2.39%)
FABL 93.75 Decreased By ▼ -0.39 (-0.41%)
FCCL 51.95 Decreased By ▼ -0.84 (-1.59%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.03 Decreased By ▼ -0.53 (-2.71%)
HBL 305.01 Decreased By ▼ -1.09 (-0.36%)
HUBC 199.95 Decreased By ▼ -1.47 (-0.73%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.31 (-1.17%)
MLCF 91.45 Decreased By ▼ -1.71 (-1.84%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.48 (-1.35%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 239.99 Decreased By ▼ -3.22 (-1.32%)
PPL 222.49 Decreased By ▼ -4.42 (-1.95%)
PRL 91.17 Decreased By ▼ -1.85 (-1.99%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.31 Decreased By ▼ -0.50 (-2.1%)
TELE 7.64 Decreased By ▼ -0.16 (-2.05%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.32 (-2.47%)
TRG 56.48 Decreased By ▼ -0.08 (-0.14%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

تھر کوئلے کی ریل کے ذریعے ترسیل کیلئے 10 ارب روپے کی گرانٹ منظور

  • یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد مقامی تھر کوئلے کی بجلی گھروں اور صنعتی صارفین تک ترسیل کو ممکن بنانا ہے۔

وزارتِ ریلوے، حکومت سندھ کے تعاون سے، مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور بعد ازاں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری (جوائنٹ وینچر) معاہدے کے تحت اس منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

وزارتِ ریلوے کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) پہلے ہی موجودہ ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ تھر کول ریل کنیکٹیویٹی، بشمول پورٹ قاسم تک آخری مرحلے کی ریل رابطہ کاری کے منصوبے کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت منظوری دے چکی ہے۔

یہ منصوبہ تھر کے وسیع کوئلے کے ذخائر سے مؤثر استفادہ یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف درآمدی کوئلے پر چلنے والے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کو مقامی کوئلہ فراہم کیا جا سکے بلکہ ملک بھر کی سیمنٹ، کھاد اور اسٹیل صنعتوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچایا جا سکے۔

جوائنٹ وینچر معاہدے کے تحت منصوبے کی لاگت وفاقی حکومت اور حکومت سندھ برابر برابر برداشت کریں گی۔ وفاقی حکومت کا حصہ پی ایس ڈی پی کے ذریعے فراہم کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ اپنے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت بروقت اور مساوی بنیادوں پر فنڈز فراہم کرے گی تاکہ منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور ٹھیکیداروں کے دعوؤں سے بچا جا سکے۔

وزارتِ ریلوے نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں اس منصوبے کے لیے 7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ پہلے ہی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ- ون میں 10 ارب روپے منتقل کر چکی ہے۔

تاہم وزارت نے وضاحت کی کہ ان فنڈز کے استعمال کے لیے بجٹ میں گنجائش پیدا کرنے کی خاطر 10 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ درکار تھی۔ وزارت نے واضح کیا کہ اس گرانٹ سے وفاقی حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ یہ رقم پہلے ہی حکومت سندھ فراہم کر چکی ہے۔

منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت اور فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتِ ریلوے نے ای سی سی سے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری طلب کی، جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف