BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.63 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 28.20 Increased By ▲ 0.19 (0.68%)
BOP 36.10 Increased By ▲ 0.14 (0.39%)
CNERGY 9.69 Increased By ▲ 0.29 (3.09%)
DFML 19.81 Increased By ▲ 0.03 (0.15%)
DGKC 224.49 Increased By ▲ 1.19 (0.53%)
FABL 101.63 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
FCCL 55.88 Increased By ▲ 0.41 (0.74%)
FFL 17.58 Increased By ▲ 0.10 (0.57%)
GGL 25.01 Increased By ▲ 0.20 (0.81%)
HBL 313.78 Increased By ▲ 4.89 (1.58%)
HUBC 227.05 Increased By ▲ 0.12 (0.05%)
HUMNL 11.16 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.16 (2.02%)
LOTCHEM 31.46 Increased By ▲ 1.03 (3.38%)
MLCF 104.24 Increased By ▲ 1.47 (1.43%)
OGDC 334.13 Increased By ▲ 0.58 (0.17%)
PAEL 45.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.09%)
PIBTL 17.97 Decreased By ▼ -0.05 (-0.28%)
PIOC 272.59 Increased By ▲ 0.75 (0.28%)
PPL 236.55 Increased By ▲ 0.93 (0.39%)
PRL 42.07 Increased By ▲ 0.22 (0.53%)
SNGP 112.40 Decreased By ▼ -1.83 (-1.6%)
SSGC 30.83 Decreased By ▼ -0.24 (-0.77%)
TELE 9.17 Increased By ▲ 0.17 (1.89%)
TPLP 12.62 Decreased By ▼ -0.05 (-0.39%)
TRG 65.58 Increased By ▲ 0.41 (0.63%)
UNITY 10.26 Increased By ▲ 0.06 (0.59%)
WTL 1.32 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

حکومت سے اندرونی آبی گزرگاہوں کے ٹرانسپورٹ کی اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ

  • آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے، میاں زاہد حسین
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مستقل انلینڈ واٹر وے ٹرانسپورٹ اتھارٹی قائم کرے، ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی آبی ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر مقررہ وقت کے اندر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔پاکستان کا مال برداری کا نظام مکمل طور پر مہنگے سڑکوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہے، جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ 2023 میں 90 فیصد سے زائد مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوئی، جس سے سڑکوں کی حالت خراب اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹک سے کراچی تک اسٹریٹجک آبی راستے کی ترقی سستا راہداری فراہم کر سکتی ہے۔ حکومت نے پالیسیوں میں اس کی اہمیت تسلیم کی ہے مگر عملدرآمد تاحال انتہائی سست ہے۔

Comments

200 حروف