BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
CNERGY 13.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.10 Decreased By ▼ -0.35 (-0.18%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.50 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 92.92 Decreased By ▼ -0.24 (-0.26%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.72 Decreased By ▼ -2.19 (-0.97%)
PRL 93.16 Increased By ▲ 0.14 (0.15%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

پاور سیکٹر کی سبسڈی میں 19 فیصد کمی، 830 ارب روپے مقرر

  • انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں مختص رقم کو معمولی کمی کے ساتھ 248 ارب روپے کردیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے پاور سیکٹر کی سبسڈی میں تقریباً 19 فیصد کمی کر کے اسے 830 ارب روپے کردیا ہے جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے یہ سبسڈی 1.036 کھرب روپے رکھی گئی تھی جسے بعد میں نظرثانی کے بعد کم کر کے 893.136 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔

مجموعی طور پر مالی سال 2026-27 کے لیے سبسڈیز میں 8 فیصد کمی کی گئی ہے اور انہیں کم کر کے 1.091 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ جاری مالی سال میں یہ 1.186 کھرب روپے تھیں۔

مالی سال 2026-27 کے لیے انٹر ڈسکو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں مختص رقم کو معمولی کمی کے ساتھ 248 ارب روپے کردیا گیا ہے جو مالی سال 2025-26 میں 249.135 ارب روپے تھی، اسی طرح بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کے لیے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کو 4 ارب روپے سے کم کرکے 3 ارب روپے کردیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع (سابقہ فاٹا) کے لیے سبسڈیز میں 15 فیصد کمی کر دی گئی ہے اور انہیں کم کرکے 34 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جب کہ مالی سال 2025-26 میں یہ رقم 40 ارب روپے تھی۔

اس کے برعکس حکومت نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے لیے سبسڈی میں 9.5 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے مالی سال 2026-27 کے لیے 81 ارب روپے کر دیا ہے، جو پہلے 74 ارب روپے تھی۔ پاکستان انرجی ریزولونگ فنڈ کے تحت مختص رقم 48 ارب روپے پر برقرار رکھی گئی ہے جس کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم چینی آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو ماہانہ 5 ارب روپے کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہے۔

کے الیکٹرک کے لیے سبسڈی میں 30 فیصد سے زائد اضافہ کر کے مالی سال 2026-27 کے لیے اسے 163 ارب روپے کر دیا گیا ہے جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ 125 ارب روپے تھی۔

دوسری جانب بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال 2025-26 کے برابر ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 میں آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی حالانکہ مالی سال 2025-26 میں اس مد میں 95 ارب روپے رکھے گئے تھے جنہیں بعد میں بڑھا کر 200 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔

مالی سال 2026-27 کے لیے پاور سیکٹر میں سرکولر ڈیٹ (گردشی قرضے) کے خاتمے کے لیے 252 ارب روپے کی نئی مختص رقم رکھی گئی ہے جبکہ مالی سال 2025-26 میں اس مد میں کوئی شق موجود نہیں تھی۔

حکومت نے یکمشت سبسڈی کی مد میں مختص رقوم کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ابتدا میں مالی سال 2025-26 کے لیے اس مد میں 400 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جنہیں بعد میں نظرثانی کے بعد کم کر کے 152 ارب روپے کر دیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف