اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی شیئرز کی رجسٹریشن کے اختیارات بینکوں کو سونپ دیے
- سرکلر کے مطابق غیر مقیم افراد کے شیئرز کی رجسٹریشن اور منافع بیرونِ ملک بھیجنے کے تمام فرائض اب بینک خود سرانجام دیں گے
کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد کو سہل بنانے کے اقدام کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جاری یا منتقل کیے جانے والے شیئرز کی رجسٹریشن سے متعلق اختیارات مجاز ڈیلرز یعنی کمرشل بینکوں کو سونپ دیے ہیں۔
جاری سرکلر میں مرکزی بینک نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مقامی کمپنیوں یا فنڈز کی جانب سے غیر مقیم یا غیر ملکی افراد کو جاری یا منتقل کیے جانے والے شیئرز اور یونٹس کی ریپیٹری ایبل بنیادوں یعنی منافع واپس بیرونِ ملک بھیجنے کی سہولت پر رجسٹریشن کے فرائض اور غیر مقیم شیئر ہولڈرز اور یونٹ ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ اور ڈس انویسٹمنٹ کی رقم بھیجنے کے لیے مجاز ڈیلرز کے تقرر کا اختیار اب بینکوں کو منتقل کر دیا جائے۔ مزید برآں ریپیٹری ایبل بنیادوں پر شیئرز اور یونٹس کی رجسٹریشن کے لیے درکار دفتری دستاویزات کی شرائط کو بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے مطابق فارن ایکسچینج مینوئل کی متعلقہ شقوں میں مناسب ترمیم کر دی گئی ہے اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز بھی تیار کرکے ان ترمیمی ہدایات کا حصہ بنا دیے گئے ہیں۔ یہ ترمیم شدہ ہدایات سرکلر کے اجراء کے ایک ماہ بعد نافذ العمل ہوں گی، تاکہ مجاز ڈیلرز کو مطلوبہ ادارہ جاتی انتظامات قائم کرنے کے لیے کافی وقت مل سکے۔ ایک الگ مینوفیکچرنگ میں اسٹیٹ بینک نے مالیاتی نظام کی کارکردگی اور افادیت کو بڑھانے کے اپنے اسٹریٹیجک ہدف کے حصے کے طور پر ایک ڈیجیٹل نان ریزیڈنٹ شیئر ہولڈنگ رجسٹریشن سسٹم کے نفاذ کا بھی اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مقامی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں میں غیر مقیم افراد کی شیئر ہولڈنگ کی رجسٹریشن اور بعد میں منافع یا سرمایہ کاری کی رقم کی بیرونِ ملک واپسی کے ریکارڈ کو خودکار اور آسان بنانا ہے۔
اس نئے طریقہ کار کے تحت مجاز ڈیلرز کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ڈیٹا ایکوزیشن پورٹل کے ذریعے بینکوں کے تقرر، شیئرز کے اجراء، ڈیویڈنڈ کی واپسی اور سرمایہ کاری نکالنے کے لین دین کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کو ماہانہ رپورٹ جمع کرائیں، جبکہ جولائی 2026 کے لین دین کی پہلی رپورٹنگ اگست 2026 کے پانچویں کام کے دن تک جمع کروانا ہوگی۔ مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو یہ ہدایت بھی کی ہے کہ وہ ڈیویڈنڈ اور سرمایہ کاری نکالنے کے لین دین سے متعلق پرانا یا تاریخی ریکارڈ تین مراحل میں جمع کرائیں۔ پہلے مرحلے میں 1 جنوری 2021 سے 30 جون 2026 تک کا ڈیٹا اس سرکلر کے اجراء کے چار ماہ کے اندر، دوسرے مرحلے میں 1 جنوری 2016 سے 31 دسمبر 2020 تک کا ڈیٹا چھ ماہ کے اندر، جبکہ تیسرے مرحلے میں 1 جنوری 2006 سے 31 دسمبر 2015 تک کا ریکارڈ ایک سال کے اندر جمع کرانا ہوگا۔ تیسرے مرحلے کے اختتام کے بعد مجاز بینک 15 دنوں کے اندر ایک تعمیلی رپورٹ جمع کرائیں گے، جس پر ان کے گروپ ہیڈ کمپلائنس کے باقاعدہ دستخط ہوں گے، جو اس بات کی تصدیق کرے گی کہ ان تینوں مراحل میں جمع کرایا گیا ڈیٹا ہر لحاظ سے مکمل اور غلطیوں سے پاک ہے۔

























Comments