ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل شعبہ شدید مالی و آپریشنل دباؤ کے باعث ڈوب رہا ہے، ہوزری مینوفیکچررز
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) کے سینئر وائس چیئرمین احمد افضل اعوان نے بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کا شعبہ شدید مالی اور آپریشنل دباؤ کے باعث ڈوب رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ صنعت کی ان سفارشات کا جائزہ لے اور انہیں نافذ کرے تو اس سے پاکستان کے سب سے اہم ترین اور برآمدات سے وابستہ (ایکسپورٹ اورینٹڈ) شعبوں میں سے ایک کو سنبھالنے اور دوبارہ بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخ (ٹیرف) 9 سینٹ فی کلوواٹ آور اور آر ایل این جی کی قیمت 6.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر برقرار رکھی جائے اور لاگت میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے توانائی کی قیمتوں کو اگلے 5 سالوں کے لیے منجمد کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام برآمد کنندگان اور برآمدی شعبوں کے لیے نارمل ٹیکس رجیم کو ختم کرکے فائنل/فکسڈ ٹیکس رجیم کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے برآمدات پر سپر ٹیکس کے خاتمے اور مقامی ٹیکسز اور لیویز کے ڈیوٹی ڈرا بیک کو دوبارہ متعارف کرانے یا جاری رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لایا جائے جو اس وقت 11.50 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود کا بلند ہونا صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہے، سیلز ٹیکس کے معاملے میں زیرو ریٹنگ کی بحالی انتہائی اہم ہے۔ برآمدات میں مسابقت کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔
انہوں نے ایک 5 سالہ ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کرنے کی تجویز پیش کی جسے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے اہم اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا جائے اور سیاسی حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اس میں تسلسل برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکسٹائل پالیسی کے مؤثر نفاذ، حقیقی عزم اور احتساب کو یقینی بنانا ہی اس پالیسی کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ لکویڈٹی کے بحران سے بچنے اور کارخانوں میں پیداواری عمل کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھنے کے لیے ریفنڈز کی فوری ادائیگی اور سیلز ٹیکس، کسٹمز ریبیٹ، انکم ٹیکس اور ڈی ایل ٹی ایل کے کلیمز کی بروقت واپسی انتہائی ضروری ہے۔
احمد افضل اعوان نے مزید بتایا کہ سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، کسٹمز ریبیٹ اور ڈیوٹی ڈرا بیک کی مد میں برآمد کنندگان کے تقریباً 327 ارب روپے کے ریفنڈز اب بھی واجب الادا ہیں، جس کی وجہ سے انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صنعتی اور برآمدی سرگرمیوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے لیے تمام زیر التوا ریفنڈز فوری طور پر جاری کرے۔
“آل پاکستان بیڈ شیٹس اینڈ اپہولسٹری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عارف احسن ملک نے کہا کہ صنعت کاروں کو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 25 مختلف سرکاری محکموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے کاروباری معاملات میں غیر ضروری الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایک جامع اور مربوط ڈیجیٹل پورٹل قائم کرے جس کے ذریعے تمام متعلقہ سرکاری امور کو ایک ہی پلیٹ فارم پر حل کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈسٹری پہلے ہی لگ بھگ 60 فیصد ٹیکس ادا کر رہی ہے، اس کے باوجود مسلسل مزید مالی بوجھ لادے جارہے ہیں جس سے اب کاروبار کی بقا ہی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔
پی ایچ ایم اے کے گروپ لیڈر چوہدری سلامت علی نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں صرف صنعتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی کمی کی جانی چاہیے، کیونکہ بجلی کے بھاری بلوں نے عوام اور تاجر برادری دونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments