پنجاب میں دفعہ 144 نافذ، ایئرپورٹس اور فضائی اڈوں کے قریب آلائشیں پھینکنے اور کبوتر اڑانے پر پابندی
- پنجاب میں فضائی آپریشنز کی حفاظت کے لیے تمام ایئرپورٹس اور ایئربیسز کے گرد 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کی گئی، 13 کلومیٹر کی حدود میں لیزر لائٹس کے استعمال پر بھی پابندی عائد
پنجاب حکومت نے پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) کے تمام فضائی اڈوں اور کمرشل ایئرپورٹس کو محفوظ بنانے کے لیے صوبے بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان ایئرپورٹس اور ایئربیسز کے گرد 13 کلومیٹر کے فلیٹ ریڈیس (حدود) میں دفعہ 144 لاگو رہے گی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے تحت مقررہ علاقوں میں کبوتر اڑانے، لیزر لائٹس کے استعمال اور جانوروں کی آلائشیں و گوشت پھینکنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق صوبے بھر میں یہ تمام پابندیاں 30 روز کے لیے نافذ العمل کر دی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں پنجاب میں واقع پاکستان ایئر فورس کے تمام اڈوں اور کمرشل ایئرپورٹس کے گرد 13 کلومیٹر کے دائرے میں لاگو ہوں گی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
سرکاری حکام نے وضاحت کی کہ ایئرپورٹس اور ایئربیسز کے گرد کبوتر اڑانا، لیزر لائٹس کا استعمال اور صدقے کا گوشت پھینکنا انتہائی خطرناک سرگرمیاں ہیں، جو پروازوں کے آپریشنز میں خلل ڈالتی ہیں اور فلائٹ سیکیورٹی کے لیے شدید خطرہ بنتی ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گوشت اور جانوروں کی آلائشوں کی وجہ سے پرندے وہاں کا رخ کرتے ہیں، جس سے طیاروں اور مسافروں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ایئرپورٹ کی حدود میں دکانوں، پلازوں اور شہریوں کی جانب سے لیزر لائٹس کا استعمال بھی پروازوں کی آمد و رفت کو متاثر کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ان پابندیوں کا نفاذ ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی ) 1898 کی دفعہ 144(6) کے تحت کیا ہے۔ یہ احکامات صوبے بھر میں قائم کمرشل ایئرپورٹس کی حدود میں بھی فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ ایئرپورٹس اور ان کے گرد و نواح میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب بھر کی ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں۔

























Comments