ایران کشیدگی اور مہنگائی کے خدشات، عالمی منڈی میں ڈالر مضبوط
- جاپانی ین دوبارہ اس سطح کے قریب پہنچ گیا جہاں جاپانی حکام مداخلت کر سکتے ہیں
ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کے خدشات کے درمیان امریکی ڈالر بدھ کے روز چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہا، جبکہ جاپانی ین دوبارہ اس سطح کے قریب پہنچ گیا جہاں جاپانی حکام مداخلت کر سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے عالمی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ جنگ کے باعث مہنگائی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی بانڈ مارکیٹس میں فروخت کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی 30 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران پر دوبارہ حملہ کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے۔ اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
یورو 1.1608 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3398 ڈالر پر برقرار رہا، جو حالیہ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔ آسٹریلوی ڈالر 0.14 فیصد کمی کے بعد 0.7097 ڈالر جبکہ نیوزی لینڈ ڈالر 0.24 فیصد گر کر 0.5822 ڈالر پر آ گیا۔
کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس 99.306 پر مستحکم رہا۔ ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمبر میں شرح سود بڑھائے جانے کے امکانات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔
دوسری جانب جاپانی ین 159.03 فی ڈالر تک گر گیا، جو 30 اپریل کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں ین مزید کمزور ہوا تو جاپانی حکام دوبارہ مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

























Comments