ڈیجیٹل اثاثوں کی قانونی نگرانی کے لیے قواعد و ضوابط کی تیاری
- مجوزہ فریم ورک میں نئی ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے سینڈ باکس ماحول کی فراہمی اور اثاثوں کی ٹوکن سازی کو ترجیح دی جائے گی، وزیر مملکت بلال بن ثاقب
پاکستان میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے باقاعدہ قانونی ڈھانچہ (ریگولیٹری فریم ورک) تیار کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا اعلان وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے لمز یونیورسٹی میں منعقدہ لیڈرشپ سمٹ آن بلاک چین اینڈ ڈیجیٹل ایسٹس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر مملکت نے انکشاف کیا کہ اس وقت تقریباً 4 کروڑ پاکستانی ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں، جن کی اکثریت غیر منظم اور غیر رسمی پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد ان صارفین کو ایک منظم مالیاتی نظام میں لانا ہے، تاکہ صارفین کا تحفظ یقینی ہو اور جدت کو فروغ مل سکے۔
بلال بن ثاقب نے مزید کہا کہ سالانہ 38 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کو بلاک چین کے ذریعے مزید آسان بنایا جا سکتا ہے، جبکہ واضح قوانین سے فری لانس معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔ مجوزہ فریم ورک میں نئی ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ’سینڈ باکس‘ ماحول کی فراہمی اور اثاثوں کی ٹوکن سازی کو ترجیح دی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026

























Comments