بحری اصلاحات کے ذریعے ملک معاشی قوت بن کر ابھر سکتا ہے، وزیر بحری امور
- بحرِ ہند میں تناؤ کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، جنید انور چوہدری
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ جامع بحری اصلاحات کے ذریعے پاکستان ایک ابھرتی ہوئی علاقائی معاشی قوت بن سکتا ہے۔
بحرِ ہند کے خطے میں بحری تجارت پر جغرافیائی و سیاسی اثرات کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مشرقِ وسطیٰ، ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان کلیدی رابطے کے طور پر بحرِ ہند کی اسٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔ جنید چوہدری نے اس بات پر زور دیا کہ بحرِ ہند میں تناؤ کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو نہ صرف تجارت بلکہ عالمی معیشتوں اور علاقائی استحکام کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاکہ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو ٹرانس شپمنٹ حب (تجارتی مرکز) میں تبدیل کیا جا سکے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ مل کر کی گئی حالیہ اصلاحات کے تحت سو فیصد اسکیننگ کے بجائے رسک مینجمنٹ کی تکنیک متعارف کرائی گئی ہے، جس سے کلیئرنس کے وقت میں کمی آئی ہے اور چھوٹے تاجروں کے لیے آپریشنز میں آسانی پیدا ہوئی ہے۔
رواں سال مارچ میں کراچی پورٹ نے 111,300 ٹن ٹرانس شپمنٹ کارگو کے ساتھ ایک نیا ماہانہ ریکارڈ قائم کیا، جبکہ پورٹ قاسم نے 3,485 ٹن کارگو سنبھالا۔ گوادر پورٹ نے بھی اپنی پہلی مخصوص ٹرانس شپمنٹ کھیپ وصول کی اور اب تک وہاں ایسے چار بحری جہاز لنگر انداز ہو چکے ہیں۔
وزیرِ بحری امور نے زور دیا کہ برآمد کنندگان کے چارجز میں کمی اور کنٹینرز کے رش کے خاتمے جیسے اقدامات نے پاکستان کو جہاز رانی کے شعبے میں مستحکم بنانے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بندرگاہیں اب مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، جس سے تجارت اور تیل کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے گا۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ریئر ایڈمرل شاہد احمد نے تصدیق کی کہ ستمبر سے کراچی پورٹ سے پپری تک چار نئی ٹرینیں چلائی جائیں گی، جبکہ خوردنی تیل کے ٹرمینلز اور فیری سروسز بھی فعال ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ اگلے 50 سال کے تقاضوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ حکومت علاقائی رابطوں کے لیے پاکستان کی حیثیت کو ایک اہم بحری تجارتی مرکز کے طور پر مضبوط کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
























Comments