این ایچ اے اور اے ڈی بی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت ایم 6 موٹروے کے سیکشنز کی ترقی کے لیے معاہدے پر دستخط کر دیے
- یہ منصوبہ پاکستان کے شمال–جنوب ہائی اسپیڈ روڈ نیٹ ورک میں موجود "مسنگ لنک" کو مکمل کرنے میں مدد دے گا
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے منگل کے روز حیدرآباد، سکھر موٹروے (ایم 6) کے دو سیکشنز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت ترقی دینے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کی تصدیق ایک پریس ریلیز میں کی گئی ہے۔
معاہدے پر اے ڈی بی کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین اور این ایچ اے کے ممبر پی پی پی اعجاز احمد نے دستخط کیے۔ اس موقع پر این ایچ اے کے ممبر پلاننگ ڈاکٹر شفیق احمد، اے ڈی بی کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر سید حسین حیدر، اور اے ڈی بی کی ایڈوائزری ڈویژن-I، او ایم ڈی پی کے ڈائریکٹر محمد عظیم ہاشمی بھی موجود تھے۔
منصوبے کے تحت ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) مشاورتی معاونت فراہم کرے گا، جس میں فزیبلٹی اسٹڈیز، ایک قابلِ عمل پی پی پی ماڈل کی تشکیل، شفاف خریداری کے عمل میں مدد، اور کمرشل و مالیاتی بندش تک پیش رفت میں سہولت کاری شامل ہوگی۔
یہ منصوبہ پاکستان کے شمال اور جنوب ہائی اسپیڈ روڈ نیٹ ورک میں موجود “مسنگ لنک” کو مکمل کرنے میں مدد دے گا، جس سے لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر ہوگی، سفر کا وقت کم ہوگا اور ملک بھر میں تجارتی سرگرمیوں کے بہاؤ کو تقویت ملے گی۔
اس اسکیم کے تحت حیدرآباد سے شروع ہونے والی 120 کلومیٹر طویل، چھ رویہ موٹروے تعمیر کی جائے گی، جس میں جدید ٹولنگ، ٹریفک مینجمنٹ اور حفاظتی نظام شامل ہوں گے۔
یہ منصوبہ پشاورتا کراچی موٹروے کوریڈور کی تکمیل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جو ملک کے بڑے قومی رابطہ منصوبوں میں سے ایک ہے۔

























Comments