پاکستان ایل این جی کی قلت کے باعث فرنس آئل کا استعمال بڑھانے اور جوہری بجلی گھروں کی مرمت مؤخر کرنے پر مجبور
- رسد کا یہ بحران ایران جنگ کے نتیجے میں قطر کی جانب سے ناگزیر حالات کے اعلان اور ایل این جی کی درآمدات میں تعطل کے باعث پیدا ہوا ہے
وفاقی وزیرِ توانائی نے بتایا ہے کہ ایران جنگ کے باعث مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی میں تعطل سے پیدا ہونے والے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کو پوری صلاحیت پر چلا رہا ہے اور نیوکلیئر پاور پلانٹس کی مرمت کا کام بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
رسد میں یہ کمی قطر کی جانب سے ایران جنگ کے نتیجے میں ’فورس میجر‘ (ناگزیر حالات) کے اعلان کے بعد آئی ہے جس سے ایل این جی کی درآمدات متاثر ہوئیں اور پاکستان جیسے ممالک متبادل ایندھن یا مہنگے اسپاٹ کارگو تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بدھ کے روز ملک بھر کے مختلف علاقوں کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ توانائی اویس لغاری نے بتایا کہ بارشوں اور آبپاشی کی طلب میں کمی کی وجہ سے ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کی پیداوار کم ہوئی ہے، جس سے ملک کو تقریباً 3,400 میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کی پیداوار میں بھی شدید کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں 6 سے 7 گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان کے ایل این جی پلانٹس، جن کی صلاحیت تقریباً 6,000 میگاواٹ ہے گیس کی کمی کے باعث صرف 500 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ ہائیڈرو پاور کی پیداوار گر کر 1,600 میگاواٹ رہ گئی ہے جو گزشتہ اپریل کی سطح سے تقریباً آدھی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ملک اضافی ایندھن کا انتظام کر رہا ہے اور بجلی کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے ایٹمی بجلی گھروں کی طے شدہ مرمت روک دی گئی ہے۔ حکام فرنس آئل پر چلنے والے مہنگے پلانٹس بھی چلا رہے ہیں اور آذربائیجان کی کمپنی سوکار سمیت دیگر ممالک کے ساتھ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کی سطح پر ایل این جی کے معاہدوں کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھاری پریمیم سے بچنے کی کوشش
وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے گزشتہ روز کہا تھا کہ پاکستان اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خرید سکتا ہے لیکن ترجیح ان سودوں کو دی جائے گی جن میں بھاری پریمیم (اضافی قیمت) سے بچا جا سکے، کیونکہ موجودہ تنازع کے باعث قیمتیں 20 سے 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی ہیں۔
پاکستان عام طور پر طویل مدتی معاہدوں کے تحت ماہانہ 8 سے 10 ایل این جی کارگو درآمد کرتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ملکی پیداوار اور سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے طلب میں کمی آئی تھی جس کے باعث کچھ شپمنٹس منسوخ بھی کی گئی تھیں۔ گزشتہ سال اپریل میں مہنگا ہونے کی وجہ سے فرنس آئل پر انحصار نہ ہونے کے برابر تھا اور ایل این جی سے 3,000 میگاواٹ جبکہ ہائیڈرو سے 3,200 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی تھی۔
بجلی کی طلب میں بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے جو اپریل کے آغاز میں 9,000 میگاواٹ تھی لیکن درجہ حرارت بڑھنے سے چند ہی دنوں میں 20,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
چھتوں پر نصب سولر سسٹم (جس کا تخمینہ 12 سے 18 گیگا واٹ ہے) نے دن کے وقت گرڈ کی طلب کم کر دی ہے، جس کی وجہ سے بجلی کی کمی اب شام کے اوقات میں منتقل ہو گئی ہے جب سولر پیداوار ختم ہو جاتی ہے اور ایل این جی پلانٹس کی ضرورت پڑتی ہے۔ قلت کے باوجود وفاقی وزیر نے کہا کہ کوئلے، قابلِ تجدید توانائی اور جوہری طاقت پر انحصار بڑھانے کی پالیسی نے اس بحران کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔





















Comments