سوشل میڈیا کے ذریعے منی لانڈرنگ
- برسوں سے غیر رسمی ذرائع سے اربوں روپے خاموشی سے معیشت سے باہر نکل رہے ہیں جس سے ٹیکس نیٹ متاثر ہو رہا ہے
وفاقی وزرائے خزانہ اور داخلہ کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاس کے دوران منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے نیٹ ورکس کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا حکومتی فیصلہ بروقت اور انتہائی ضروری ہے۔ برسوں سے غیر رسمی ذرائع سے اربوں روپے خاموشی سے معیشت سے باہر نکل رہے ہیں جس سے ٹیکس نیٹ متاثر ہو رہا ہے، مارکیٹیں غیر متوازن ہو رہی ہیں اور قانون کی پاسداری کرنے والے کاروباروں اور شہریوں پر غیر منصفانہ بوجھ پڑ رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ سرگرمیاں اب صرف غیر رسمی یا خفیہ معیشت تک محدود نہیں رہیں بلکہ باقاعدہ کاروباری نظام میں بھی سرایت کر چکی ہیں، جہاں افراد، چھوٹے تاجر اور بڑی کمپنیاں یکساں طور پر رسمی مالیاتی نظام سے بچنے کے راستے اختیار کر رہی ہیں، جس سے مالیاتی استحکام کمزور اور ریگولیٹری اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
جہاں حکام غیر قانونی مالیات کے روایتی ذرائع کے خلاف کارروائی کی تیاری کررہے ہیں، وہیں اس مسئلے کا ایک اہم پہلو نظرانداز کیا جارہا ہے: میٹا اور گوگل جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ اور مونیٹائزیشن سے منسلک منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں میں اضافہ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سخت فارن ایکسچینج کنٹرولز، غیر ملکی لین دین پر بھاری ٹیکس، عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اشتہارات کی ادائیگیوں کی بڑھتی طلب اورکانٹینٹ کریئٹر و کاروباری اداروں کے لیے ان پلیٹ فارمز کی مونیٹائزیشن سے متعلق پابندیوں نے ادائیگیوں اور وصولیوں کے لیے ایک گرے مارکیٹ کو جنم دیا ہے۔ اس صورتحال نے غیر قانونی عناصر کو ریگولیٹری خامیوں سے منظم طریقے سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں منی لانڈرنگ کا ایک پھیلتا ہوا نیٹ ورک وجود میں آچکا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نظام مزید پیچیدہ اور منظم ہوچکا ہے۔ بنیادی سطح پر مقامی کاروباری ادارے میٹا اور گوگل جیسے پلیٹ فارمز پر اشتہارات کی ادائیگیاں بیرونِ ملک مقیم دوستوں یا مڈل مین کے ذریعے کرتے ہیں جبکہ ان واجبات کی مقامی سطح پر تصفیہ ہنڈی کے غیر رسمی ذرائع سے روپوں میں کی جاتی ہے جس سے اسٹیٹ بینک کی نگرانی بائی پاس ہوجاتی ہے۔ اس سے زیادہ پیچیدہ اسکیموں میں غیر قانونی آپریٹرز قانونی پاکستانی کاروبار کو رعایتی اشتہاری ادائیگی کی خدمات پیش کرتے ہیں جو مقامی بینکوں کے بین الاقوامی ادائیگیوں پر عائد ٹیکسوں اور چارجز کے مقابلے میں سستی ہوتی ہیں۔ یہ آپریٹرز ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ادائیگیاں کرنے کے لیے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس یا مالیاتی میولز کا استعمال کرتے ہیں۔
آمدنی کے پہلو سے دیکھا جائے تو، پاکستان میں براہِ راست مونیٹائزیشن کے راستوں کی کمی اور اسٹیٹ بینک کی ان پابندیوں کی وجہ سے جو رہائشیوں اور کاروباری اداروں کو غیر ملکی اکاؤنٹس کھولنے سے روکتی ہیں منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے ایک منظم ڈھانچے کو فروغ ملا ہے۔ مقامی بینک اکاؤنٹس منسلک کرنے میں دشواری کے باعث کانٹینٹ کریئٹر، میڈیا ہاؤسز اور ڈیجیٹل کاروباری افراد عام طور پر بیرونِ ملک مقیم اپنے ساتھیوں کے نام پر غیر ملکی اکاؤنٹس رجسٹر کرواتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹس گوگل ایڈسینس یا میٹا کریئٹر اسٹوڈیو جیسی سروسز سے ادائیگیاں وصول کرتے ہیں جس سے اسٹیٹ بینک کی نگرانی اور ملکی ٹیکسوں سے بچا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ رقوم حوالہ نیٹ ورکس یا کرپٹو کرنسی کے ذریعے پاکستان منتقل کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ واضح ہے سرحد پار ڈیجیٹل منی لانڈرنگ کا یہ منظم ماڈل ریگولیٹری نظام کے ایک سنگین خلا کو بے نقاب کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکام اب جا کر ان طریقوں کے پھیلاؤ اور پیچیدگی سے آگاہ ہو رہے ہیں، جو مجرمانہ غفلت اور ادارہ جاتی سستی دونوں کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ پورا نظام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں کے سامنے برسوں سے بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلتا رہا ہے۔
لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ اس سنگین خلا کو بالآخر پُر کیا جائے اور یہ صرف منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ان حالات کی اصلاح کے ذریعے بھی ہونا چاہیے جو ایسی سرگرمیوں کو ممکن بناتے ہیں۔ لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ حکومت ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے جو کاروباری اداروں کو قانونی، ہموار اور کم لاگت والے ذرائع سے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر ادائیگیاں کرنے اور وصول کرنے کی اجازت دے۔ اس وقت ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ جتنا دانستہ بدعنوانی کا نتیجہ ہے، اتنا ہی ریگولیٹری نظام کی خرابیوں کا شاخسانہ بھی ہے۔مثال کے طور پر، ایک عملی قدم یہ ہو سکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک پاکستانی کاروباری اداروں کو ملکی بینکوں کی غیر ملکی شاخوں میں مکمل طور پر ظاہر شدہ ’مرر اکاؤنٹس رکھنے کی اجازت دے۔ اس سے یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ تمام لین دین شفاف، ٹریس ایبل اور ریگولیٹری نگرانی کے دائرے میں رہیں۔ غیر قانونی رقوم کی منتقلی کو روکنے کے لیے ریگولیٹری کارروائیوں کو اصلاحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ موثر قانون سازی کے ساتھ قانونی تقاضوں کی پاسداری کو ایک زیادہ قابلِ عمل اور منطقی انتخاب بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments