BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
پاکستان

بڑھتی مہنگائی اور سست معاشی نمو سے مزید پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے

19-2018 سے اب تک حقیقی گھریلو آمدنی اور کھپت دونوں میں کمی واقع ہوئی، سرکاری رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

غربت اور عدم مساوات کے تخمینے 25-2024 کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ برسوں سے جاری شدید مہنگائی، کمزور معاشی ترقی اور پے در پے آنے والے معاشی جھٹکوں نے گھرانوں کی قوتِ خرید کو ختم کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 19-2018 سے اب تک حقیقی گھریلو آمدنی اور کھپت (اخراجات) دونوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ظاہری گھریلوں آمدنی 16-2015 میں 35,662 روپے سے بڑھ کر 19-2018 میں 41,545 روپے اور مزید بڑھ کر 25-2024 میں 82,179 روپے تک پہنچ گئی لیکن آمدنی میں یہ اضافہ مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں بہت کم رہا، جس کی وجہ سے حقیقی آمدنی میں کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق غربت کے یہ اعدادوشمار مختلف معاشی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جن میں بنیادی طور پر جی ڈی پی کی کم شرح نمو اور شدید مہنگائی شامل ہے جس نے گھرانوں کی قوتِ خرید کو ختم کر دیا۔ اس کے ساتھ قدرتی آفات اور بیرونی معاشی جھٹکوں نے بھی حالات بگاڑے جس کے حالیہ برسوں میں فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور نتیجے کے طور پر غربت میں اضافہ ہوا۔

اس کے نتیجے میں 25-2024 کے تخمینوں کے تحت پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جہاں قومی سطح پر غربت 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت میں زیادہ تیزی سے اضافہ دیکھا گیا جو 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہوگئی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں غربت 28.4 سے بڑھ کر 32 فیصد، سندھ میں 29.7 سے بڑھ کر 35.9 فیصد، خیبر پختونخوا میں 24.8 سے بڑھ کر 29.4 فیصد اور بلوچستان میں 21 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد ہوگئی۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ حالیہ میکرو اکنامک (بڑے پیمانے پر معاشی) بہتری کے باوجود گھریلو آمدنی میں طویل مدتی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی وجوہات میں تاریخی طور پر بلند ترین مہنگائی، بجلی و گیس کی قیمتوں میں رد و بدل، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافہ، بالخصوص بالواسطہ ٹیکس شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان عوامل نے بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کیا جبکہ لوگوں کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ظاہری آمدنی میں اضافے کی رفتار قیمتوں میں ہونے والے مجموعی اضافے سے پیچھے رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی آمدنی میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے خاص طور پر مقررہ آمدنی والے افراد (تنخواہ دار طبقہ)، غیر رسمی شعبے کے محنت کش اور زرعی برادری بعض پالیسی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں حالیہ معاشی استحکام ابھی تک ان مالی نقصانات اور فلاح و بہبود میں ہونے والی اس تنزلی کا ازالہ نہیں کر سکا جو کورونا کی لہر کے دوران اور اس کے بعد محسوس کی گئی تھی۔

Comments

200 حروف