حکومت نے وادی تیراہ میں فوج کے حکم پر آبادی کے انخلا کے دعوے مسترد کر دیے
- خیبر پختونخوا حکومت نے لوگوں کی عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی کے لیے 4 ارب روپے جاری کیے، وفاقی حکومت کا موقف
وزارت اطلاعات و نشریات نے وادی تیراہ میں پاک فوج یا وفاقی حکومت کے حکم پر آبادی کے انخلا کے دعووں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
جاری پریس ریلیز میں حکومت نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے آبادی کے انخلا کی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ وزارت نے وضاحت کی کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کر رہے ہیں جن کا ہدف صرف دہشت گرد عناصر ہیں، تاکہ شہری زندگی کم سے کم متاثر ہو۔ مزید کہا گیا کہ مقامی آبادی، خوارج (دہشت گردوں) کی موجودگی سے پریشان ہے اور خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔
صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے مرکز نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ ریلیف، بحالی اور آباد کاری نے 26 دسمبر 2025 کو تقریباً 4 ارب روپے جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ یہ فنڈز تیراہ (باغ) کے مخصوص علاقوں سے لوگوں کی ”متوقع عارضی اور رضاکارانہ نقل مکانی“ کے لیے ہیں، جس کے لیے ٹرانسپورٹ، خوراک، نقدی امداد اور رجسٹریشن پوائنٹس کے قیام جیسے انتظامات کی درخواست کی گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنر خیبر کی رپورٹ کے مطابق یہ نقل مکانی مقامی آبادی کی اپنی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے جس کا اظہار ضلعی سطح کے ایک نمائندہ جرگے کے ذریعے کیا گیا تھا۔ وزارت نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا اس ہجرت کو مسلح افواج سے جوڑنا من گھڑت ہے جس کا مقصد سکیورٹی اداروں کو بدنام کر کے سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔
اگرچہ وزارت اطلاعات نے نام نہیں لیا لیکن یہ بیان بظاہر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے 15 جنوری کے ریمارکس کے جواب میں دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیراہ میں فوجی آپریشن اور لوگوں کو زبردستی نکالنے کا فیصلہ بند کمروں میں کیا گیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ سیاسی عزائم کی تکمیل ہے۔
سہیل آفریدی نے وادی تیراہ کے دورے کے دوران متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو کچھ تیراہ کے لوگوں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 22 بڑے اور تقریباً 14,000 چھوٹے فوجی آپریشنز کے بعد اب کیا ضمانت ہے کہ امن قائم ہو جائے گا؟
دریں اثنا ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ تیراہ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کی صورتحال ایک انسانی المیے میں بدل سکتی ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ہزاروں لوگ شدید سردی اور منفی درجہ حرارت میں بغیر خوراک، پانی اور طبی امداد کے پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر نکالنے اور امداد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

























Comments