میئر کا کراچی میں واٹر ٹینکر کلچر ختم کرنے کا اعلان
- واٹر ہائیڈرنٹس کو کوئی نیا ٹھیکہ جاری نہیں کیا جائے گا، مرتضیٰ وہاب
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر میں پانی کی تقسیم کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کے نظام کو بتدریج ختم کر کے پائپ لائن پر مبنی نظام رائج کیا جائے۔
یہ پیش رفت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے اس نوٹس کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جس میں شہر میں آبی قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ٹینکر مافیا کی بیخ کنی اور بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے واٹر انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کرے۔
کمیٹی نے کے فور اور دیگر اہم منصوبوں کی نگرانی کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر جائزہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کراچی کے دیرینہ پانی اور سیوریج کے مسائل کے حل کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی اور اعلیٰ حکام کی موجودگی میں تمام متعلقہ سینیٹ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز بھی دی ہے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق میئر کراچی نے اعلان کیا کہ شہر کے تمام واٹر ہائیڈرنٹس کو بالاآخر ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ موجودہ ٹینکر سروس کا ایک موثر متبادل تیار کریں ،تاکہ شہریوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پر مستقل اور قابلِ اعتماد طریقے سے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
میئر نے انکشاف کیا کہ اگرچہ واٹر ہائیڈرنٹس اس وقت ماہانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کا ریونیو پیدا کر رہے ہیں لیکن ان کے ٹھیکے گزشتہ سال ختم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب کوئی نیا ٹھیکہ جاری نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری انتظامیہ کا مقصد مکمل طور پر پائپ لائن کے ذریعے پانی کی تقسیم کی طرف منتقل ہونا ہے کیونکہ ٹینکرز ایک ناقابلِ برداشت حل ہیں جو شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔
منتقلی کے اس عمل کے دوران پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے میئر مرتضیٰ وہاب نے ایک شیڈول تجویز کیا جس کے تحت مختلف علاقوں کو باری باری (مختلف دنوں میں) پانی فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کو ٹینکر مافیا سے نجات دلانے کے لیے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں۔
9 جنوری کو سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت سندھ اسمبلی بلڈنگ میں ہونے والے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں سینیٹرز فاروق ایچ نائیک، عامر ولی الدین چشتی، عبدالقادر خان، عطاء الرحمان، سلیم مانڈوی والا، شہادت اعوان اور ارکانِ سندھ اسمبلی نے شرکت کی۔
ارکان نے ٹینکر مافیا کی غیر قانونی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹینکر مافیا نے شہر کی پانی کی سپلائی کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے شہری پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ حکومتِ سندھ کے فور منصوبے اور شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق انفرااسٹرکچر کو اپ گریڈ کرے۔



















Comments