BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
پاکستان

ایران پر ممکنہ امریکی حملوں میں پاکستان کی شرکت کی خبریں بے بنیاد ، وزارتِ اطلاعات کی تردید

  • یہ وضاحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے پاکستان کے اڈے یا فضائی حدود استعمال کر رہا ہے۔ وزارت نے ان الزامات کو محض غلط معلومات ،لاپروائی ، الزام تراشی پر مبنی بیانیہ قرار دیا ہے۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس بات کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ہے کہ امریکی طیارے یا آئی ایس آر اثاثے پاکستان میں موجود ہیں۔ اس بات کا بھی کوئی معتبر ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان سے ایران کی جانب حملوں کے لیے کوئی آپریشنل پروازیں کی گئی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ تنازع کے دوران اسلام آباد کے سرکاری موقف کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں امریکہ نے ایران کے اندر حملے بھی کیے تھے وزارت نے کہا کہ پاکستان نے عوامی سطح پر امریکی اقدامات کی مذمت کی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ حقیقت واضح طور پر اس کہانی کی تردید کرتی ہے کہ پاکستان حملوں میں سہولت کاری کر رہا ہے ۔ اس بیانیے کا مقصد بغیر کسی تصدیق شدہ ثبوت کے پاکستان کو امریکہ-ایران تنازع میں گھسیٹنا ہے۔

یہ وضاحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو وہاں جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر ممکنہ حملوں کی وارننگ دی ہے، جس پر تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

اتوار کو ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ملک پر حملہ کیا تو وہ امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔ تہران نے واشنگٹن اور تل ابیب پر بدامنی پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔

اسی روز ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوجی آپشنز سمیت کئی سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔

بعد ازاں ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ”جنگ نہیں چاہتا لیکن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے، جبکہ انہوں نے باہمی احترام اور مساوی حقوق“ کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔

Comments

Comments are closed.