ایران پر ممکنہ امریکی حملوں میں پاکستان کی شرکت کی خبریں بے بنیاد ، وزارتِ اطلاعات کی تردید
- یہ وضاحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے
وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف حملوں کے لیے پاکستان کے اڈے یا فضائی حدود استعمال کر رہا ہے۔ وزارت نے ان الزامات کو محض غلط معلومات ،لاپروائی ، الزام تراشی پر مبنی بیانیہ قرار دیا ہے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس بات کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ہے کہ امریکی طیارے یا آئی ایس آر اثاثے پاکستان میں موجود ہیں۔ اس بات کا بھی کوئی معتبر ثبوت نہیں ہے کہ پاکستان سے ایران کی جانب حملوں کے لیے کوئی آپریشنل پروازیں کی گئی ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ تنازع کے دوران اسلام آباد کے سرکاری موقف کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں امریکہ نے ایران کے اندر حملے بھی کیے تھے وزارت نے کہا کہ پاکستان نے عوامی سطح پر امریکی اقدامات کی مذمت کی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حقیقت واضح طور پر اس کہانی کی تردید کرتی ہے کہ پاکستان حملوں میں سہولت کاری کر رہا ہے ۔ اس بیانیے کا مقصد بغیر کسی تصدیق شدہ ثبوت کے پاکستان کو امریکہ-ایران تنازع میں گھسیٹنا ہے۔
یہ وضاحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو وہاں جاری احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر ممکنہ حملوں کی وارننگ دی ہے، جس پر تہران کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اتوار کو ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے ملک پر حملہ کیا تو وہ امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔ تہران نے واشنگٹن اور تل ابیب پر بدامنی پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا۔
اسی روز ٹرمپ نے کہا کہ وہ فوجی آپشنز سمیت کئی سخت اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی رہنماؤں نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے۔
بعد ازاں ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ”جنگ نہیں چاہتا لیکن جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے، جبکہ انہوں نے باہمی احترام اور مساوی حقوق“ کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
























Comments