BR100 Increased By (1.66%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.2%)
KSE30 Increased By (1.4%)
BAFL 58.67 Increased By ▲ 0.50 (0.86%)
BIPL 27.08 Increased By ▲ 0.08 (0.3%)
BOP 33.92 Increased By ▲ 0.43 (1.28%)
CNERGY 11.10 Increased By ▲ 0.36 (3.35%)
DFML 18.06 Increased By ▲ 0.28 (1.57%)
DGKC 215.83 Increased By ▲ 8.52 (4.11%)
FABL 100.69 Increased By ▲ 0.33 (0.33%)
FCCL 55.90 Increased By ▲ 1.72 (3.17%)
FFL 16.08 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.99 (4.32%)
HBL 309.24 Increased By ▲ 5.57 (1.83%)
HUBC 219.89 Increased By ▲ 2.77 (1.28%)
HUMNL 10.73 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.30 Increased By ▲ 0.12 (1.67%)
LOTCHEM 27.29 Increased By ▲ 0.32 (1.19%)
MLCF 97.45 Increased By ▲ 2.58 (2.72%)
OGDC 319.09 Increased By ▲ 5.05 (1.61%)
PAEL 42.52 Increased By ▲ 0.25 (0.59%)
PIBTL 17.08 Increased By ▲ 0.04 (0.23%)
PIOC 272.98 Increased By ▲ 3.53 (1.31%)
PPL 221.32 Increased By ▲ 5.11 (2.36%)
PRL 63.42 Increased By ▲ 3.28 (5.45%)
SNGP 105.88 Increased By ▲ 2.99 (2.91%)
SSGC 25.93 Increased By ▲ 0.65 (2.57%)
TELE 8.46 Increased By ▲ 0.21 (2.55%)
TPLP 14.71 Increased By ▲ 1.34 (10.02%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
UNITY 10.01 Increased By ▲ 0.05 (0.5%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)
پاکستان

پی ٹی اے کا ضلعی سطح پر انٹرنیٹ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ

  • ضلعی انٹرنیٹ لائسنس کے لیے 3 لاکھ روپے فیس مقرر، سالانہ فیس پیشگی جمع کرانا لازمی ہوگی ، نوٹیفکیشن جاری
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں ضلعی سطح پر انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی کے لیے کلاس لائسنس کے اجرا کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر کاروبار( انٹرپرینیورشپ) کو فروغ دینا، براڈ بینڈ انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ڈیجیٹل شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔

لائسنسنگ کے اس نئے نظام کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے آپریٹرز کو ضلعی سطح پر انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی، جس سے خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق اس کلاس لائسنس کی مدت 10 سال ہوگی۔ درخواست دہندگان کو 3 لاکھ روپے ابتدائی لائسنس فیس (ون ٹائم) اور پہلے سال کے لیے ایک لاکھ روپے سالانہ لائسنس فیس (اے ایل ایف) ادا کرنا ہوگی۔ لائسنس کے مؤثر ہونے سے قبل یہ فیس جمع کرانا لازمی ہے۔

آنے والے سالوں کے لیے سالانہ لائسنس فیس پیشگی ادا کی جائے گی، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ دلچسپی رکھنے والے افراد اور ادارے پی ٹی اے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے مقررہ چیک لسٹ کے مطابق درخواست دے سکتے ہیں جبکہ لائسنس کا نمونہ (ٹیمپلیٹ) اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے۔

پی ٹی اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ اقدام ملک بھر میں براڈ بینڈ کی رسائی بڑھانے اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل پی ٹی اے نے انٹرنیٹ آف تھنگز(ایل او ٹی) اور شارٹ رینج ڈیوائسز(ایس آر ڈی ) کے ریگولیٹری فریم ورک میں بھی ترمیم کی تھی، تاکہ ملک گیر سطح پر آئی او ٹی ایکو سسٹم کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔اس اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک میں آئی او ٹی سروسز کی فراہمی کے لیے تفصیلی ہدایات فراہم کی گئی ہیں، جن میں لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ فریکوئنسی بینڈز کے استعمال پر توجہ دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت آئی او ٹی خدمات کو اسپیکٹرم کے استعمال کی بنیاد پر مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) موجودہ لائسنس شرائط کے تحت یہ خدمات فراہم کر سکیں گے جبکہ انتہائی حساس (مشن کریٹیکل) آئی او ٹی خدمات صرف لائسنس یافتہ اسپیکٹرم پر ہی کام کرتی رہیں گی۔

Comments

Comments are closed.