BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.36%)
KSE30 Increased By (0.36%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 194.77 Increased By ▲ 1.80 (0.93%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.31 Increased By ▲ 0.48 (0.91%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.50 Increased By ▲ 0.53 (2.79%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.08 (1%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.80 Increased By ▲ 0.29 (0.34%)
OGDC 322.25 Increased By ▲ 2.29 (0.72%)
PAEL 39.86 Increased By ▲ 0.44 (1.12%)
PIBTL 16.89 Increased By ▲ 0.22 (1.32%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.30 Increased By ▲ 1.12 (0.49%)
PRL 34.79 Increased By ▲ 0.11 (0.32%)
SNGP 99.30 Increased By ▲ 0.12 (0.12%)
SSGC 27.02 Increased By ▲ 0.42 (1.58%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.61 Increased By ▲ 0.39 (4.74%)
TRG 69.60 Decreased By ▼ -0.11 (-0.16%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

پی ٹی اے کا ضلعی سطح پر انٹرنیٹ لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ

  • ضلعی انٹرنیٹ لائسنس کے لیے 3 لاکھ روپے فیس مقرر، سالانہ فیس پیشگی جمع کرانا لازمی ہوگی ، نوٹیفکیشن جاری
شائع January 1, 2026 اپ ڈیٹ January 1, 2026 07:34pm

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں ضلعی سطح پر انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی کے لیے کلاس لائسنس کے اجرا کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی سطح پر کاروبار( انٹرپرینیورشپ) کو فروغ دینا، براڈ بینڈ انفرااسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور ڈیجیٹل شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔

لائسنسنگ کے اس نئے نظام کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے آپریٹرز کو ضلعی سطح پر انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی، جس سے خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پی ٹی اے کے مطابق اس کلاس لائسنس کی مدت 10 سال ہوگی۔ درخواست دہندگان کو 3 لاکھ روپے ابتدائی لائسنس فیس (ون ٹائم) اور پہلے سال کے لیے ایک لاکھ روپے سالانہ لائسنس فیس (اے ایل ایف) ادا کرنا ہوگی۔ لائسنس کے مؤثر ہونے سے قبل یہ فیس جمع کرانا لازمی ہے۔

آنے والے سالوں کے لیے سالانہ لائسنس فیس پیشگی ادا کی جائے گی، جس میں ہر سال 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ دلچسپی رکھنے والے افراد اور ادارے پی ٹی اے کے آن لائن پورٹل کے ذریعے مقررہ چیک لسٹ کے مطابق درخواست دے سکتے ہیں جبکہ لائسنس کا نمونہ (ٹیمپلیٹ) اتھارٹی کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود ہے۔

پی ٹی اے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ یہ اقدام ملک بھر میں براڈ بینڈ کی رسائی بڑھانے اور ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل پی ٹی اے نے انٹرنیٹ آف تھنگز(ایل او ٹی) اور شارٹ رینج ڈیوائسز(ایس آر ڈی ) کے ریگولیٹری فریم ورک میں بھی ترمیم کی تھی، تاکہ ملک گیر سطح پر آئی او ٹی ایکو سسٹم کی ترقی کو تیز کیا جا سکے۔اس اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک میں آئی او ٹی سروسز کی فراہمی کے لیے تفصیلی ہدایات فراہم کی گئی ہیں، جن میں لائسنس یافتہ اور غیر لائسنس یافتہ فریکوئنسی بینڈز کے استعمال پر توجہ دی گئی ہے۔

نئی پالیسی کے تحت آئی او ٹی خدمات کو اسپیکٹرم کے استعمال کی بنیاد پر مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) موجودہ لائسنس شرائط کے تحت یہ خدمات فراہم کر سکیں گے جبکہ انتہائی حساس (مشن کریٹیکل) آئی او ٹی خدمات صرف لائسنس یافتہ اسپیکٹرم پر ہی کام کرتی رہیں گی۔

Comments

200 حروف