محمود اچکزئی کی سیاسی کشیدگی کم کرنے کیلئے درگزر اور آگے بڑھنے کی پالیسی کی تجویز
- موجودہ صورتحال نے ملک کو افراتفری اور بحران کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے مفاہمت اور مکالمہ ضروری ہے، سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ہفتے کے روز اسٹیبلشمنٹ کو ایک پیشکش کرتے ہوئے ملکی قیادت میں فیصلہ کن تبدیلی پر زور دیا اور کہا کہ ملک کو درپیش گہرے سیاسی انتشار اور بے یقینی سے نکالنے کے لیے درگزر کرو اور آگے بڑھو کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال نے ملک کو افراتفری اور بحران کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے، جس سے نکلنے کے لیے مفاہمت اور مکالمہ ضروری ہے۔
محمود اچکزئی کے یہ خیالات پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ تحفظ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ کانفرنس کے اختتام پر سامنے آئے۔ اس کانفرنس میں اپوزیشن رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، وکلا اور میڈیا سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی اور ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سیاسی جمود کو چیلنج کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، جن میں مولانا فضل الرحمان، میاں نواز شریف اور دیگر شامل ہیں، سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملک کے مستقبل کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کو معاف کرنا ہوگا اور آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے مطابق صرف جمہوری مکالمے کے ذریعے ہی پاکستان سیاسی اور معاشی دلدل سے نکل سکتا ہے۔
محمود اچکزئی نے اپنی تقریر میں اسٹیبلشمنٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 2018 کے عام انتخابات میں سیاسی عمل میں مداخلت کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور اربوں روپے کا لین دین ہوا، جو ملک کو تباہی کی راہ پر لے جانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندوق اٹھانے والا شخص سیاست کی میز پر نہیں بیٹھ سکتا، اور اگر کوئی سیاست کرنا چاہتا ہے تو اسے ہتھیار چھوڑ کر عوامی مینڈیٹ کے ذریعے پارلیمنٹ کا حصہ بننا چاہیے۔
مجلسِ وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں انصاف کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہاں انصاف اور منصفانہ رویے کا قتل ہو رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی حالیہ عدالتی فیصلوں کو غیر منصفانہ قرار دیا اور کہا کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقتدار میں موجود افراد کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ مذاکرات کے لیے وہ تیار ہیں، تاہم کسی بھی بات چیت کی پہلی شرط یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے۔ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے بھی عمران خان کی قید پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل میں رکھنا درست نہیں اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دی گئی سزائیں بے معنی ہیں۔
جماعتِ اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آئین کے تحفظ اور سیاسی استحکام کے مشترکہ ایجنڈے پر متحد ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن سیاسی جدوجہد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments