نومبر کیلئے ایف سی اے، سی پی پی اے جی کی بجلی کی قیمتیں کم کرنے کی درخواست
- ملک بھر کے صارفین بشمول کے الیکٹرک کو پانچ ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی واپسی متوقع ہے
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ(سی پی پی اے-جی) نے نومبر 2025 کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ 0.72 روپے منفی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیپرا کو دے دی ہے، جس کے تحت ملک بھر کے صارفین بشمول کے الیکٹرک کو پانچ ارب 60 کروڑ روپے سے زائد کی واپسی متوقع ہے۔
نیپرا 31 دسمبر 2025 کو اس درخواست پر عوامی سماعت منعقد کرے گا، جس میں سی پی پی اے جی سے مزید وضاحت طلب کی جائے گی جبکہ صارفین کے نمائندوں کو بھی اپنے تحفظات اور آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
نیپرا کو جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2025 کے دوران مجموعی بجلی پیداوار میں آبی ذرائع سے 3,153 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی جو کل پیداوار کا 39.16 فیصد بنتی ہے۔ مقامی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں سے 752 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جو 9.34 فیصد کے برابر ہے اور اس کی اوسط لاگت 17.7669 روپے فی یونٹ رہی، جبکہ درآمدی کوئلے سے 407 گیگا واٹ آور بجلی 14.1350 روپے فی یونٹ لاگت پر پیدا کی گئی۔
نومبر میں ایچ ایس ڈی اور ایچ ایس ایف او سے بجلی پیدا نہیں کی گئی۔ گیس پر چلنے والے پاور پلانٹس سے 680 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جو 8.44 فیصد بنتی ہے اور اس کی لاگت 14.3396 روپے فی یونٹ رہی۔ آر ایل این جی سے بجلی پیداوار 696 گیگا واٹ آور رہی جو 8.64 فیصد ہے اور اس کی لاگت 21.5789 روپے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔
جوہری ذرائع سے 2,031 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی جو کل پیداوار کا 22.13 فیصد ہے اور اس کی لاگت 2.2706 روپے فی یونٹ رہی۔ ایران سے درآمد کی گئی بجلی 35 گیگا واٹ آور رہی۔ ہوا، بیگاس اور شمسی توانائی سے بالترتیب 136، 75 اور 86 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کی گئی۔
سی پی پی اے جی کے مطابق نومبر میں مجموعی پیداوار 8,050 گیگا واٹ آور رہی جس پر 50.093 ارب روپے لاگت آئی۔ ایڈجسٹمنٹس کے بعد ڈسکوز کو فراہم کی گئی بجلی 7,813 گیگا واٹ آور رہی جس کی فی یونٹ لاگت 6.1621 روپے رہی۔ چونکہ یہ لاگت مقررہ ریفرنس ریٹ سے کم ہے، اس لیے تمام صارفین کے لیے منفی ایڈجسٹمنٹ کی سفارش کی گئی ہے، تاہم لائف لائن صارفین اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.