ایک ماہ سے والد سے رابطہ نہیں ہوا ، قاسم خان
عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا ہے کہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود انہیں ایک ماہ سے زائد عرصے سے اپنے زیرِ حراست والد سے کوئی رابطہ کرنے نہیں دیا جاسکا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ میرے والد کی گرفتاری کو 845 دن ہوچکے ہیں۔ گزشتہ چھ ہفتوں سے انہیں مکمل طور پر تنہائی میں ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے۔
قاسم خان کے مطابق عمران خان کی بہنوں کو بھی ملاقات سے محروم رکھا جا رہا ہے، حالانکہ عدالت نے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک والد کی نہ تو کوئی فون کال موصول ہوئی ہے ، نہ ملاقات اور نہ ہی کوئی ثبوت کہ وہ خیریت سے ہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے بالکل رابطے میں نہیں۔
قاسم کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال جان بوجھ کر پیدا کی گئی ہے ،تاکہ ان کی حالت چھپائی جا سکے اور خاندان کو معلوم نہ ہو کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور اس کے سرپرست میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی قید کے ہر نتیجے کے لیے قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔
قاسم نے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر سطح پر جمہوری آواز بلند کرنےوالوں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ والد کے صحیح سلامت ہونے سے متعلق حکومت سے فوری ثبوت طلب کریں، عدالتی احکامات کے مطابق اہلخانہ کی بانی تک رسائی یقینی بنائی جائے ، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے مقبول ترین سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جسے صرف سیاسی بنیادوں پر قید کیا گیا ہے۔
قبل ازیں پی ٹی آئی نے بھی اپنے آفیشلی سوشل میڈیا پیغام میں سابق وزیراعظم کی خیریت سے متعلق گردش کرنے والی شرانگیز افواہوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کے بارے میں غیر مصدقہ خبریں غیر سرکاری افغان و بھارتی میڈیا اور غیر ملکی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جا رہی ہیں جس سے بے جا تشویش پیدا ہو رہی ہے۔
پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت اور وزارتِ داخلہ پر زور دیا کہ وہ ان افواہوں کی فوری اور دوٹوک تردید کرے اور عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کی ہنگامی ملاقات کا انتظام کرے۔
پارٹی نے عمران خان کی صحت، حفاظت اور موجودہ صورتحال سے متعلق شفاف اور سرکاری بیان جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔






















Comments
Comments are closed.