آزاد کشمیر کے وزیرِاعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی میں پیش
- اجلاس کی صدارت اسمبلی اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کی، جس دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قاسم مجید نے یہ تحریک پیش کی۔
آزاد جموں و کشمیر کے وزیرِاعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیر کے روز اسمبلی میں پیش کردی گئی۔
اس اجلاس کی صدارت اسمبلی اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کی، جس دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قاسم مجید نے یہ تحریک پیش کی۔
اس سے قبل پی پی پی نے اس خطے کے وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے فیصل راٹھور کا نام بطور امیدوار پیش کیا تھا۔
گزشتہ ماہ، پاکستان مسلم لیگ ن اور پی پی پی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے تاکہ نئی حکومت قائم کی جا سکے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی کے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آزاد کشمیر کے وزیرِاعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے اور مضبوط نئی حکومت قائم کی جائے تاکہ مستقبل میں آزاد، شفاف اور منصفانہ انتخابات ہو سکیں۔
مزید برآں ن لیگ کے احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور نئی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ صرف بہتر حکمرانی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ پیپلزپارٹی کی حمایت کرے گی تاکہ وزیراعظم کو عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے ہٹاتے ہوئے نئی حکومت قائم کی جا سکے۔
آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں 52 ارکان ہیں، اور سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے۔

























Comments
Comments are closed.