امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو 4 ارب ڈالر کی غذائی امداد روکنے کی عارضی اجازت دیدی
- انتظامیہ ایس این اے پی سے 4 ارب ڈالر روک سکتی ہے ، فوڈ اسٹامپس متاثر
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو فی الحال تقریباً 4 ارب ڈالر کی غذائی امداد روکنے کی عارضی اجازت دے دی، جو اس ماہ 42 ملین کم آمدنی والے امریکی شہریوں کے لیے فوڈ اسٹیمپس پروگرام کے تحت دی جانی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق انتظامیہ فی الحال سپلیمنٹری نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (ایس این اے پی) سے تقریباً 4 ارب ڈالر روک سکتی ہے، جسے فوڈ اسٹامپس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
انتظامیہ کے وکیلوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر وفاقی حکومت کی یہ بندش ختم ہو جاتی ہے یعنی بجٹ یا فنڈنگ مسائل حل ہو جاتے ہیں تو جج کے حکم کو روکنے کی ضرورت ختم ہو جائے گی ، لہٰذا عدالت کی جانب سے جج کیٹانجی براؤن جیکسن کی جاری کردہ عارضی تعطل کی توسیع زیادہ دیر برقرار نہ رہنے کی توقع ہے۔
جیکسن نے تحریر کیا ہے کہ وہ انتظامیہ کی درخواست کو مزید روکنے کے لیے مسترد کر دیتیں مگر یہ عارضی تعطل جمعرات کو ختم ہونے والا ہے۔
امریکی سینیٹ نے پیر کو سمجھوتے کی قانون سازی کی منظوری دی، جس سے امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین حکومت کی بندش ختم ہو سکتی ہے۔
اس بندش کی وجہ سے لاکھوں افراد خوراک کی فراہمی سے محروم رہے، سینکڑوں ہزاروں وفاقی ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئیں اور ہوائی آمد و رفت متاثر ہوئی۔

























Comments
Comments are closed.