متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے 7 رکنی وفد نے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، اس موقع پر ایم کیو ایم نے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی درخواست کی۔
وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن شامل تھے۔
اجلاس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال اور مشاورت کی گئی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ بھی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم نے آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ آئینی اور مالی اختیارات دینے کی سفارش کی۔ وفد نے 90 روز میں عام انتخابات کرانے اور اسمبلیوں کی مدت چار سال کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
ایک اور اہم سفارش نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ملنے والے فنڈز کی براہ راست مقامی حکومتوں کو منتقلی تھی، تاکہ ترقیاتی وسائل نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ ایم کیو ایم نے کہا کہ شہری مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک مقامی حکومتوں کو آئینی تحفظ اور مالی خودمختاری حاصل نہ ہو۔
وفد نے وزیر اعظم سے سفارش کی کہ مقامی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترامیم کی منظوری دی جائے تاکہ شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔

























Comments
Comments are closed.