اسلامی ممالک میں ٹورازم ایکسچینج پروگرام کے آغاز پر اتفاق
- ایف پی سی سی آئی، آئی سی سی ڈی اور البرکہ بینک کا اشتراک، سفارتکاروں کے ساتھ پائیدار سیاحت پر اعلیٰ سطح ڈائیلاگ
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے آگاہ کیا کہ وفاقی چیمبر نے اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈیولپمنٹ کے اشتراک اور البرکہ بینک پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت سے ایک اعلٰی سطح ڈائیلاگ ود ڈپلومیٹس کا کامیاب انعقاد کیا ہے۔
یہ اجلاس پا ئیدار سیاحت فورم کے فروغ کے لیے دوطرفہ اور کثیرالملکی شراکت داری کے سلسلے میں منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے سفیر، قونصل جنرل، ہائی کمشنر اور دیگر اعلیٰ سفارتی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس، فیڈریشن ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی جسکا مرکزی موضوع ٹوارزم ٹرانسفارمیشن کے ذریعے کمیونٹی ڈیولپمنٹ تھا۔
اس موقع پر ملک و بیرون ملک سے ماہرین سیاحت، پالیسی ساز، صنعتکار اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک ہوئے تاکہ پائیدار سیاحت کے لیے جدید حکمتِ عملیوں پر گفتگو کی جاسکے۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے بتایا کہ مقررین نے زور دیا کہ دوطرفہ اور کثیرالملکی شراکتیں مقامی کمیونٹی کو بااختیار بنانے، ماحولیات کے تحفظ اور ذمہ دار سیاحتی سرگرمیوں کے ذریعے معاشی ترقی کے فروغ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ شرکاء نے پاکستان کے قدیم ثقافتی ورثے، قدرتی مناظر اور ابھرتے ہوئے ایکو ٹورازم کے مواقع کو بروئے کار لانے کے طریقوں پر مفصل گفتگو کی۔
اجلاس کی نمایاں بات یہ تھی کہ ایک قرارداد منظور کی گئی کہ جس کے تحت تمام اسلامی ممالک کے درمیان ٹورازم ایکسچینج پروگرام کے آغاز پر اتفاق کیا گیا تاکہ بزنس ٹو بزنس اور پینل ٹو پینل روابط کے ذریعے کاروباری، تجارتی، سرمایہ کاری، معاشی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔
سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ یہ مکالمہ پاکستان کے سیاحتی شعبے کو ترقی دینے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔بین الاقوامی شراکتوں کے ذریعے ہم ایسے پائیدار مواقع پیدا کر سکتے ہیں کہ جو مقامی معیشت کو فائدہ پہنچائیں اور ہماری قدرتی و ثقافتی میراث کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں۔
صدر و سی ای او البرکہ بینک پاکستان عاطف حنیف نے کہا کہ پائیدار سیاحت صرف مقامات کی بات نہیں ہو تی بلکہ مضبوط کمیونٹیز کی تعمیر کا نام ہےایسے پروگرام سفارتکاروں اور کاروباری طبقے کے درمیان پُل کا کام کرتے ہیں؛تاکہ، ہم اقتصادی ترقی کی عملی حکمتِ عملیاں بنا سکیں۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں منعقد ہونےوالے ڈائیلاگ میں جاپان، ملیشیا، انڈونیشیا، الجیریا، ویتنام، تھائی لینڈ، سری لنکا، فلپائن، افغانستان، ازبکستان اور دیگر ممالک کے سفارتکاروں نے اس بات پر زور دیا کہ کثیرالملکی شراکتیں پائیدار سیاحت کو فروغ دے کر مقامی کمیونٹیز کے لیے طویل مدتی فوائد پیدا کر سکتی ہیں اور پاکستان کے معاشی وژن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.