مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 99 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں گر کر منفی 6 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے، حالانکہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں آنے والی بڑی تبدیلیاں بظاہر پاکستان کے حق میں رہی ہیں۔
ستمبر 2025 میں ایف ڈی آئی میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 55 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری (بشمول پورٹ فولیو انویسٹمنٹ) میں 64.5 فیصد کمی آئی۔ یہ کمی اس کے باوجود دیکھی گئی کہ دوست ممالک کے ساتھ 25 ارب ڈالر سے زائد کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے اور جون 2023 میں اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل قائم کی گئی، جس کا مقصد وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ادارہ جاتی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خدشات دور کرنا تھا۔
گزشتہ مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو، جو ایف ڈی آئی کو بروئے کار لانے یا موثر طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، ابتدائی تخمینے 2.6 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کردی گئی۔ موجودہ مالی سال کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس کا اندازہ 3.6 فیصد لگایا ہے جبکہ بجٹ میں اسے پرامیدی کے ساتھ 4.2 فیصد رکھا گیا ہے۔ تاہم، یہ تخمینے موسمِ گرما کی سیلابی تباہ کاریوں کے حتمی جائزے کے بعد نظرِ ثانی کے تابع ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کے مطابق 2024 میں عالمی سطح پر ایف ڈی آئی میں 11 فیصد کمی آئی۔ ترقی یافتہ معیشتوں میں یہ کمی 22 فیصد رہی، یورپ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 58 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ ایشیا میں یہ منفی 3 فیصد رہی۔ اس کی بنیادی وجوہات بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، تجارتی رکاوٹیں اور اقتصادی عدم استحکام بتائی گئیں۔
بدقسمتی سے، ٹرمپ انتظامیہ کے بعد سے یہ منفی عوامل مزید مضبوط ہوئے ہیں، اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق رواں سال میں ایف ڈی آئی کی شرح نمو مزید کم رہنے کا امکان ہے۔ عالمی شرح نمو 3.1 فیصد تک محدود رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس میں ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے 1.5 فیصد اور ابھرتی ہوئی و ترقی پذیر معیشتوں کے لیے تقریباً 4 فیصد نمو کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے تاہم وضاحت کی ہے کہ اس کے تجزیے “تاریخی اعداد و شمار پر مبنی ہوتے ہیں، جب کہ پیش گوئیاں ان معلومات پر استوار کی جاتی ہیں جو رکن ممالک کے دوروں کے دوران ملک سے متعلق افسران کی جانب سے حاصل کی جاتی ہیں اور ہر ملک کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے تجزیے کے ذریعے ترتیب دی جاتی ہیں۔
تاریخی ڈیٹا کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ مزید معلومات دستیاب ہوتی رہتی ہیں، جب کہ اعداد و شمار میں نمایاں تغیرات کو ہموار سلسلے میں پیش کرنے کے لیے ‘اسپلائسنگ’ اور دیگر تکنیکیں استعمال کی جاتی ہیں۔” اس انحصار کے باعث یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے بعض اوقات ایسی اصلاحات قبول کرنے سے گریز کریں جو کسی مخصوص مقروض ملک کے لیے زیادہ موزوں ہوں، یا جیسا کہ آج دیکھا جا رہا ہے، وہ اصلاحات جنہیں امریکی پالیسیوں کے باعث چیلنج درپیش ہے جو پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں اور محصولات میں اضافہ کر کے امریکا میں دوبارہ صنعتی عمل کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں جغرافیائی معیشتی تبدیلیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “گزشتہ چند ماہ کے دوران تجارتی اور جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، حکومتی قرضے بڑھے ہیں، اور نان بینک مالیاتی اداروں (این بی ایف آئیز) اور اسٹیبل کوائنز کی توسیع جاری ہے۔ مارکیٹیں اس بدلتی ہوئی فضا کے باوجود پُر سکون دکھائی دیتی ہیں؛ اپریل 2025 کی گلوبل فنانشل اسٹیبلٹی رپورٹ کے بعد سے اثاثوں کی قیمتیں دوبارہ بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں اور مالیاتی حالات نرم ہوئے ہیں۔
مالیاتی استحکام کے خطرات بدستور بلند ہیں۔ ویلیوایشن ماڈلز ظاہر کرتے ہیں کہ خطرناک اثاثوں کی قیمتیں بنیادی معاشی حقائق سے کہیں اوپر ہیں، جو کسی بھی وقت تیز مندی کے خطرے کو جنم دے سکتی ہیں۔
خود مختار بانڈ مارکیٹوں پر مالی خسارے کے پھیلاؤ سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جب کہ اسٹریس ٹیسٹس سے ظاہر ہوا ہے کہ بینکوں اور نان بینک مالیاتی اداروں کے درمیان باہمی انحصار اور مدت کے عدم توازن میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کسی بھی جھٹکے کو شدید بنا سکتا ہے۔ یہ کمزوریاں ایک دوسرے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔” دوسرے الفاظ میں، ایسے سنگین عوامل موجود ہیں جو عالمی تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے پالیسیوں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ تشکیل دیتے ہیں تاکہ بظاہر کوششوں کی تکرار سے بچا جا سکے؛ تاہم، اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ ایک ادارہ دوسرے کے پروگرام یا منصوبے کے ڈیزائن کو چیلنج کرنے سے گریز کرتا ہے۔
اسی تناظر میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے شائع شدہ متعدد رپورٹس (بشمول پاکستان کے جاری پروگرام کے ڈیزائن) تجارت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹیں کم کرنے کی پالیسی کی مکمل حمایت کرتی ہیں، تاہم یہ نقطۂ نظر اس وقت سنگین خطرے سے دوچار ہے کیونکہ عالمی گلوبلائزیشن کا دور زوال پذیر ہے۔
عالمی بینک اگرچہ اس پالیسی کی تائید کرتا ہے، لیکن اس نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے محصولات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس کا مؤقف ہے کہ “ماضی میں بڑے محصولات میں کمی کے ادوار میں غیر تجارتی آمدن میں اضافہ ہوا، جس نے تجارت سے حاصل ہونے والے محصولات کے خسارے کو پورا کر دیا۔” پاکستان کے معاملے میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ بڑھتے ہوئے ٹیکسوں (جن میں پیٹرولیم لیوی بھی شامل ہے جو پچھلے سال کے 1.16 کھرب روپے کے مقابلے میں 1.468 کھرب روپے تک پہنچ گئی) کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑا، جس کے نتیجے میں غربت کی سطح سب سہارا افریقہ کے مساوی سطح تک جا پہنچی۔
عالمی بینک نے جنوبی ایشیا کے لیے شرح نمو 6.6 فیصد کے ساتھ بلند ترین قرار دی، جبکہ پاکستان کی شرح نمو گزشتہ مالی سال میں 3 فیصد تک بڑھائی گئی۔ سال 2026 کے لیے جنوبی ایشیا کی مجموعی شرح نمو 5.8 فیصد اور پاکستان کی 3.1 فیصد متوقع ہے، جو گزشتہ سال خطے کے اوسط سے 3.6 فیصد اور موجودہ سال میں 1.9 فیصد کم ہے۔
عالمی بینک نے مزید متنبہ کیا کہ پاکستان کی شرح نمو اتنی کم ہے کہ وہ غربت میں خاطر خواہ کمی نہیں لا سکتی، اور اس نے زور دیا کہ پاکستان کو اصلاحات (جو آئی ایم ایف کے زیرِ سرپرستی ہیں) پر سنجیدگی سے عمل درآمد اور ماحولیاتی جھٹکوں کے مقابلے میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ 28 اکتوبر کو جاری کردہ اپنی پاکستان ڈویلپمنٹ اپڈیٹ میں کہا گیا (اگرچہ اس کا ڈیٹا گزشتہ مالی سال کا تھا)۔
اس کے برعکس، پاکستان نے اپنی ماہانہ (اکتوبر) اپڈیٹ اور آؤٹ لک ایک روز قبل، 27 اکتوبر کو جاری کی، تاہم پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) پر اعداد و شمار میں رد و بدل کے الزامات تقریباً معمول بن چکے ہیں۔ یہ الزام آئی ایم ایف کی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں بھی تقویت پاتا ہے، جن میں کہا گیا کہ “جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے سے متعلق بنیادی اعداد و شمار میں بڑی خامیاں موجود ہیں، جب کہ سرکاری مالیاتی اعداد و شمار کی تفصیل اور اعتبار کے حوالے سے بھی مسائل برقرار ہیں۔”
نتیجتاً، پاکستان کی حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے بہاؤ سے متعلق اپنی توقعات کم کرنی ہوں گی، نہ صرف عالمی شرح نمو میں کمی کے باعث بلکہ ملکی معیشت کی کمزور صورتحال کے پیشِ نظر بھی۔
مثبت جغرافیائی سیاسی عوامل کو غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف یہ یقینی بنانا ہوگا کہ موجودہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ان کے واجبات بروقت ادا کیے جائیں، خصوصاً چینی خودمختار بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے حوالے سے، تاکہ ملک میں کام کرنے والی کوئی غیر ملکی کمپنی اپنے انخلا کا اعلان نہ کرے، بلکہ اسے مسابقتی ممالک کے مقابلے میں پرکشش اندرونی معاشی ماحول بھی فراہم کرنا ہوگا۔ افسوس کہ چند معاشی بہتریوں کے باوجود یہ ہدف اب بھی ایک خواب ہی محسوس ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.