پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز کو ’’ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی‘‘ کے الزام میں معطل کیے جانے پر ملتان سلطانز نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے فیصلے پر سخت ردِعمل دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے گزشتہ ماہ فرنچائز کو قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے مالک علی ترین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پی ایس ایل انتظامیہ سے متعلق اپنے حالیہ بیانات واپس لیں اور عوامی طور پر معافی مانگیں۔
بورڈ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو فرنچائز کا معاہدہ منسوخ کیا جا سکتا ہے اور علی ترین پر مستقبل میں کسی بھی کرکٹ ٹیم کے ملکیتی حقوق حاصل کرنے پر تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔
جواب میں ملتان سلطانز کے انتظامی بیان میں پی سی بی کے اقدام کو ’’اشتعال انگیز‘‘ اور ’’اختیارات سے تجاوز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فرنچائز نے پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’علی ترین نے ملتان سلطانز سنبھالنے کے بعد اب تک سات ارب روپے سے زائد کا ذاتی نقصان برداشت کرتے ہوئے اکیڈمیاں اور نظام قائم کیے تاکہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو تربیت اور مواقع فراہم کیے جا سکیں۔‘‘
فرنچائز نے ترین کے بیانات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ پی ایس ایل کی بہتری کے لیے دی گئی تعمیری تنقید تھی، جس کا مقصد لیگ کی کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنانا تھا۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’تعمیری رائے کو جرم سمجھنا افسوسناک ہے اور یہ موجودہ انتظامیہ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ایس ایل احتساب اور مکالمے کے لیے تیار نہیں، حتیٰ کہ ان لوگوں کے ساتھ بھی جنہوں نے اس کی ترقی میں سب سے زیادہ کردار ادا کیا۔‘‘
ملتان سلطانز نے پاکستان کرکٹ کے ساتھ اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ علی ترین کا واحد مقصد پی ایس ایل کو اس معیار تک پہنچانا ہے جس (معیار )کے اس (ٹورنامنٹ) کے کھلاڑی اور شائقین حقدار ہیں۔

























Comments
Comments are closed.