سندھ حکومت کا ساحلی معیشت کے فروغ کیلئے ٹھٹھہ اور سجاول میں منی فش ہاربرز قائم کرنے کا فیصلہ
سندھ کے وزیرِاعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ہفتے کے روز محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز کو ہدایت کی کہ وہ چھوٹے پیمانے کی ماہی گیری کے فروغ، مقامی روزگار میں بہتری اور کراچی فش ہاربر پر دباؤ کم کرنے کے لیے ٹھٹھہ کے کیٹی بندر اور سجاول کے شاہ بندر میں منی فش ہاربرز کے قیام کی تجویز تیار کرے۔
وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ دونوں ہاربرز کی مجموعی لاگت تقریباً ایک ارب 35 کروڑ روپے تخمینہ کی گئی ہے، جنہیں تین سالہ منصوبے کے تحت صوبائی اور غیر ملکی معاونت سے مکمل کیا جائے گا۔ وہ یہ بات وزیر برائے لائیو اسٹاک و فشریز محمد علی ملکانی اور سیکریٹری فشریز ڈاکٹر کاظم جتوئی کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں اجلاس کے دوران کر رہے تھے۔
مراد علی شاہ نے اس موقع پر نشاندہی کی کہ کراچی فش ہاربر، جو صوبے میں سمندری خوراک (مچھلی) اتارنے کا سب سے بڑا مرکز ہے، اپنی گنجائش سے تجاوز کر چکا ہے، جس کے باعث ماہی گیر کشتیوں کو تاخیر، بھیڑ اور ماہی گیری کے بعد بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مچھلی اور دیگر آبی حیات کے تقریباً نصف شکار تاخیر اور کم گہرائی والے پانی کے باعث خراب ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی برآمدی قدر متاثر ہوتی ہے۔
ان مسائل کے حل کے لیے محکمہ لائیو اسٹاک و فشریز نے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی ) 2025-26 کے لیے مجوزہ منصوبوں کا ابتدائی خاکہ تیار کرلیا ہے، جن کے تحت دونوں مقامات پر جدید نیلامی ہالز، اسٹوریچ ہاؤس اور جہازوں کی مرمت و لنگر اندازی کی سہولتوں سے آراستہ منی ہاربرز قائم کیے جائیں گے۔
سیکریٹری لائیو اسٹاک و فشریز ڈاکٹر کاظم جتوئی نے وزیرِاعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے پر عمل درآمد کراچی میں ڈائریکٹوریٹ آف فشریز (میرین) کرے گا، جس کا مقصد چھوٹے پیمانے کے ماہی گیروں کی معاونت، مچھلی کی ہینڈلنگ میں بہتری اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
شاہ بندر میں مجوزہ منی ہاربر میں چھوٹی ماہی گیر کشتیاں لنگر انداز کرنے کی جگہیں، ریفریجریٹڈ اسٹوریج ہاؤسز، ایندھن اور مرمت کی سہولتیں اور ماحول دوست ویسٹ مینجمنٹ سسٹم شامل ہوگا۔ ایک جدید نیلامی ہال شفاف تجارتی عمل اور منصفانہ قیمتوں کے تعین کو فروغ دے گا۔
وزیر محمد علی ملکانی نے کہا کہ یہ منصوبہ مقامی ماہی گیری کی معیشت کو فروغ دے گا، پائیدار طریقہ کار کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ساحلی علاقوں میں ماحول دوست ترقی کو سہارا دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے بعد مصنوعات کی دیکھ بھال، کوآپریٹو تنظیموں کے قیام اور پائیداری سے متعلق تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔
ملکانی نے کہا کہ ’’کیٹی بندر اور شاہ بندر میں منی ہاربرز کی تعمیر سندھ کی ساحلی معیشت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔ یہ منصوبہ کراچی فش ہاربر پر دباؤ کم کرے گا، مقامی ماہی گیری کے شعبے کو مضبوط بنائے گا اور ساحلی علاقوں میں آباد طبقات کو مالی استحکام دلانے میں مدد دے گا۔‘‘
وزیرِاعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیٹی بندر اور شاہ بندر قدرتی طور پر اہم بندرگاہیں ہیں جو ماضی میں بھی اس خطے کی خدمت انجام دیتی رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’پہلے مرحلے میں صوبائی حکومت منی فش ہاربرز تیار کرے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں وہاں مکمل بندرگاہ قائم کی جائے گی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اضلاع شہر کے قریب واقع ہیں اور موٹروے و نیشنل ہائی وے جیسے مرکزی شاہراہوں سے منسلک ہیں۔
سندھ کے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ کیٹی بندر کو ایک نئی بندرگاہ کے طور پر ترقی دینا محترمہ بے نظیر بھٹو کا وژن تھا اور ’’ان شاءاللہ ہم اسے قومی مفاد میں ترقی دیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ سندھ کے اُس وسیع وژن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد موسمیاتی لحاظ سے محفوظ، جامع اور پائیدار ساحلی ترقی کو فروغ دینا ہے، جو انڈس ڈیلٹا کے ماہی گیری، تجارت اور سیاحت کے شعبوں کے لیے طویل المیعاد فوائد فراہم کرے گا۔

























Comments
Comments are closed.