اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےبزنس کنڈکٹ اینڈ فئیر ٹریٹمنٹ آف کنزیومرز ریگولیٹری فریم ورک جاری کردیا ہے جسکا مقصد مالیاتی اداروں میں کاروباری شفافیت، صارفین کے حقوق کےتحفظ اور ذمہ دارانہ مالیاتی طرزِعمل کو فروغ دینا ہے۔
یہ اقدام اسٹیٹ بینک کے وژن 2028 کے تحت مارکیٹ کنڈکٹ اور کنزیومر پروٹیکشن کو مضبوط بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کےمطابق یہ فریم ورک طویل مشاورت کے بعد تیار کیا گیا جس میں صارفین، مالیاتی اداروں اور صنعت کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔
یہ فریم ورک بینکوں، ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز،الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز اور پیمنٹ سسٹم آپریٹرز و پیمنٹ سروس پرووائیڈرز پر لاگو ہوگا, فریم ورک کے تحت پوری پروڈکٹ لائف سائیکل کو شامل کیا گیا ہے جس میں پروڈکٹ کی تیاری، فروخت سے قبل معلومات کی فراہمی، خدمات کی فراہمی، شکایات کے ازالے اور تعلق کے خاتمے تک کے تمام مراحل شفافیت اور صارف دوستی کےاصولوں کے تحت منظم کیے گئے ہیں ۔
اعلامیے کے مطابق فریم ورک دو حصوں پرمشتمل ہےپہلا حصہ صارفین کے منصفانہ سلوک سے متعلق نتائج پر مبنی عمومی اصولوں پر مبنی ہےجب کہ دوسرا حصہ چھ بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن میں گورننس اور نگرانی، انکشاف و شفافیت، منصفانہ سلوک و کاروباری طرزِ عمل، ڈیٹا پروٹیکشن و رازداری، تنازعات کے حل کا نظام اور آگاہی و استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ نیا فریم ورک پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت، اعتماد اور احتساب کے اصولوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک انقلابی قدم ہےجس سے نہ صرف صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوگا بلکہ مالیاتی اداروں میں اخلاقی کاروباری رویوں کو فروغ ملے گا۔
مرکزی بینک نے کہا کہ اس اقدام سے مالیاتی ادارے اپنے صارفین کے ساتھ تعلقات میں زیادہ شفاف، جوابدہ اور ذمہ دارانہ طرزِعمل اپنائیں گےجس سے ایک جامع، پائیدار اور قابلِ اعتماد مالیاتی نظام کے قیام میں مدد ملے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.