BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

نئی دہلی کی خطرناک فضائی آلودگی نے وہاں کے رہائشیوں کی زندگی کے فیصلوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ نٹاشا اپل اور ان کے شوہر نے والدین بننے سے قبل طے کیا کہ یا تو وہ اپنا بچہ دہلی سے باہر صحت مند ماحول میں پالیں گے یا پھر وہیں رہ کر بے اولاد رہنے کا فیصلہ کریں گے۔ دہلی، جو تین کروڑ سے زائد آبادی کا شہر ہے، مسلسل دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

نٹاشا نے بتایا کہ جب وہ اور ان کے شوہر نے بچہ پیدا کرنے کا سوچا تو انہیں احساس ہوا کہ دہلی کی ہوا اس خواب کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ 2022 میں وہ بنگلورو منتقل ہوگئے اور چند دن بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہلی چھوڑنا اُن کی زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ اگرچہ بنگلورو میں بھی فضائی آلودگی عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی حد سے تین گنا تک پہنچ جاتی ہے، مگر یہ دہلی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے، جہاں مہینوں تک دھواں چھایا رہتا ہے۔

ہر سال سردیوں میں دہلی فصلوں کے جلانے، کارخانوں کے دھوئیں اور ٹریفک کے اخراج سے بننے والے زہریلے اسموگ کی لپیٹ میں آجاتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2009 سے 2019 کے درمیان بھارت میں فضائی آلودگی سے 38 لاکھ اموات ہوئیں۔

نٹاشا کی طرح بہت سے خاندان دہلی چھوڑ رہے ہیں، لیکن کئی لوگ ابھی بھی مجبوریوں کے باعث وہیں مقیم ہیں۔ دہلی کی رہائشی رولی شریواستا نے بتایا کہ ان کا کم عمر بیٹا ہر سردی میں سانس کے مسائل کا شکار ہوجاتا ہے، اس لیے وہ گھر میں نیبولائزر اور ان ہیلرز ہر وقت تیار رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملازمت کے مواقع نہ ہوتے تو وہ کب کی دہلی چھوڑ چکی ہوتیں، کیونکہ یہ شہر اب بچوں کی پرورش کے لیے موزوں نہیں رہا۔

Comments

Comments are closed.