ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) نے سندھ کے چاول پیدا کرنے والے اہم علاقوں لاڑکانہ، کشمور اور شکارپور میں چاول کی برآمدات میں افلاٹوکسن اور میکسمم ریزیڈیو لیول (ایم آر ایل) مینجمنٹ سے متعلق آگاہی سیمینارز اور ورکشاپس کا سلسلہ شروع کر دیا۔
ان سیشنز کا مقصد چاول کے کاشتکاروں، ملرز اور برآمدکنندگان کو بین الاقوامی معیار، برآمدی تقاضوں اور بہترین زرعی طریقوں سے آگاہ کرنا ہے ، تاکہ پاکستانی چاول عالمی منڈیوں کے معیار پر پورا اتر سکے۔
پاکستان کا باسمتی چاول دنیا بھر میں اپنی خوشبو اور معیار کے باعث منفرد شناخت رکھتا ہے، تاہم حالیہ عرصے میں افلاٹوکسن آلودگی اور کیڑے مار ادویات کی باقیات کے باعث کئی برآمدی کھیپیں مسترد ہو چکی ہیں۔
جس کےنتیجےمیں برآمدات کو نقصان پہنچا۔ ٹڈاپ نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کسانوں اور برآمدکنندگان میں شعور و آگاہی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیمینار کے دوران ڈاکٹر مبارک (کنسلٹنٹ ایگرو) نے افلاٹوکسن اور ایم آر ایل کے مؤثر انتظام پر تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جس میں بین الاقوامی معیارات کی تعمیل اور عملی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔
اس موقع پر لاڑکانہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر خیر محمد شیخ نے ٹڈاپ کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمینار برآمدکنندگان اور کسانوں کے لیے انتہائی مفید ہیں ، کیونکہ یہ مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.