سینئر ٹیکس ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ان لینڈ ریونیو کے افسران کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے مشیروں کو، جو عدالتوں میں ان کے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں، سنگین نتائج کی دھمکیاں دے سکتے ہیں؟
ان کے مطابق ایسا واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے کارپوریٹ ٹیکس آفس (سی ٹی او) اسلام آباد نے ایک آئل کمپنی سے متعلق کیس میں فیڈرل ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے سامنے ایک ٹیکس وکیل کے خلاف ذاتی نوعیت کے تبصرے جمع کرائے۔ ٹیکس وکیل نے ٹیکس افسران کے رویے پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، جن پر ٹیکس افسران نے بھی سخت ردعمل دیا۔
جب اس معاملے پر معروف ٹیکس ماہر ڈاکٹر اکرام الحق سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایف بی آر کے افسران کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 216 کے تحت ایف بی آر کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ ٹیکس وکیل نے الزامات لگائے ہیں، تاہم فیلڈ فارمیشنز کو ٹیکس مشیروں کے ساتھ ذاتی نوعیت کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جو عدالتوں میں اپنے موکلین کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ ٹیکس افسران کو ضابطہ اخلاق اور ایف بی آر کے سرکلرز کی پابندی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شکایت کنندہ وکیل اور ٹیکس افسران دونوں کو عدالتوں کے سامنے اپنے تبصرے دیتے وقت انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ ڈاکٹر اکرام کے مطابق یہ سوال بھی اہم ہے کہ سپروائزری افسر یا متعلقہ چیف کمشنر نے ایف ٹی او کے سامنے جمع کرانے سے قبل ایسے ذاتی نوعیت کے تبصروں کی منظوری کیسے دی؟ سپروائزری افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالتوں میں جمع کرانے سے پہلے تمام تبصروں کا جائزہ لے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کو اس طرح کے ردعمل سے گریز کرنا چاہیے، چاہے شکایت کنندہ نے کرپشن یا بدانتظامی کے الزامات ہی کیوں نہ لگائے ہوں۔ ٹیکس افسران کو چاہیے کہ وہ قانونی جواز کی بنیاد پر میرٹ کے مطابق تبصرے جمع کرائیں۔
ٹیکس افسران کے سرکاری جواب کے مطابق، وکیل کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ادارے کی محنت اور ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت کے غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
سی ٹی او نے ایف ٹی او کے سامنے کہا کہ یہ الزام کہ سیکشن 48 کے تحت غیر قانونی ریکوری کی گئی، حقائق کے منافی ہے۔ کوئی جبری ریکوری نہیں کی گئی بلکہ یہ ایک قانونی ریفنڈ ایڈجسٹمنٹ تھی۔ حکومتِ پاکستان کے افسر پر صرف چند سطروں میں الزام تراشی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے، جسے وکیل صاحب بھول گئے ہیں۔ اگر وکیل سمجھتے ہیں کہ ریکوری غیر قانونی ہے تو مناسب فورم اپیلٹ ٹریبونل ہے، نہ کہ ایف ٹی او میں شکایت درج کرانا۔
سی ٹی او نے مزید کہا کہ ایسے بے بنیاد الزامات ادارے کی ساکھ اور محنت کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور بغیر ثبوت الزام تراشی وکیل کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.