BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)

حماس کی جانب سے 20 نکاتی امن منصوبے پر مثبت ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل سے غزہ پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حماس نے امریکی امن منصوبے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی اور چند دیگر شرائط قبول کرلیں، تاہم ہتھیار ڈالنے جیسے پیچیدہ معاملات ابھی حل طلب ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جواب کے بعد اسرائیل ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی یرغمالیوں کی رہائی پر فوری عملدرآمد کی تیاری کررہا ہے، اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے خبر دی کہ سیاسی قیادت نے فوج کو غزہ میں جارحانہ کارروائیاں کم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد دوبارہ بمباری کی اطلاعات

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں فورسز کو ٹرمپ منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے نفاذ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فوجی کارروائی میں کمی لائی جائے گی یا نہیں۔

حماس نے امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے پر باضابطہ ردعمل دیا ہے۔ ٹرمپ نے گروہ کو اتوار تک کی مہلت دی تھی کہ یا تو شرائط قبول کرے یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو۔

امریکی صدر جو خود کو غزہ میں امن قائم کرنے کی واحد قابل شخصیت قرار دیتے ہیں، اس دو سالہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھرپور سیاسی سرمایہ لگا رہے ہیں۔ یہ جنگ اب تک دسیوں ہزار جانیں نگل چکی ہے اور اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک حماس نے پائیدار امن کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے اور اب ذمہ داری نیتن یاہو کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری روکنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو محفوظ اور تیزی سے نکال سکیں۔ یہ معاملہ صرف غزہ کا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کا ہے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کے تحت جنگ کو ان اصولوں کے مطابق ختم کرے گا جو اسرائیل نے طے کیے ہیں اور جو ٹرمپ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔

دوسری جانب غزہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ ٹرمپ کا پیغام سامنے آنے کے فوراً بعد اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ سٹی کی مرکزی شاہراہ تلاتینی اسٹریٹ پر گولہ باری کی۔

عینی شاہدین کے مطابق حماس کے بیان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اسرائیلی فضائیہ نے غزہ سٹی پر بمباری میں شدت پیدا کر دی اور رِمال محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔

خان یونس پر بھی حملے کیے گئے تاہم رہائشیوں کے مطابق وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

Comments

Comments are closed.